مصر: بازاروں میں فروخت ہونے والی چاکلیٹ میں منشیات کی ملاوٹ کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں ایک سابق حکومتی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے بیشتر بڑے اور مشہور بازاروں میں فروخت ہونے والی چاکلیٹ میں نشہ آور مواد کی ملاوٹ کی گئی ہے۔ ان کے اس بیان پر ملک میں ایک نئی اور طوفانی بحث شروع ہوگئی ہے۔

دوسری طرف مصری وزارت داخلہ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی چھان بین کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔

قاہرہ یونیورسٹی کے سابق صدر ڈاکٹر جابر جاد نصار نے اعلان کیا کہ احتیاط سے جانچ پڑتال کے بعد ان پر یہ بات واضح ہوئی کہ بعض اوقات بعض تمباکو نوشی نہ کرنے والوں افراد، حکومتی عہدیداروں اور افسران کے طبی تجزیے کے دوران ان کے منشیات کے استعمال کا پتا چلا۔ان کا کہنا تھا کہ نشہ آور مواد کی ملاوٹ سے تیار کی گئی چاکلیٹس بیرونملک سے درآمد کی جاتی ہیں۔

نصار نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں وضاحت کی کہ طویل عرصے سے بہت سے لوگوں نے ان سے چاکلیٹس میں نشے کی ملاوٹ کی شکایت کی۔ شکایت کرنے والوں میں اہم عہدوں اور ملازمتوں پر فائز افراد بھی شامل ہیں، ان میں سے کچھ کو ایسے حکام کی ضرورت ہوتی ہے جن سے وہ تعلق رکھتے ہیں اچانک منشیات کے استعمال کا تجزیہ کرتے ہیں۔ تجزیہ کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ مریض بھنگ یا چرس جیسی منشیات کے زیر اثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتفاق سےمیں نے دریافت کیا کہ بازاروں، بڑے مالز اور مختلف پیٹرول اسٹیشنوں پر ایک پروڈکٹ بکتی ہے، جو کہ ایک (چاکلیٹ) کینڈی ہے جس کے اجزاء میں پوست کا کچھ حصہ شامل ہوتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جوامریکا اور یورپی ممالک میں قانونی ہے۔

قاہرہ یونیورسٹی کے سابق صدر نے ان مصنوعات کے بارے میں کچھ پوسٹرز بھی شائع کیے، جن میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ ان میں پوست کا پودا درحقیقت موجود ہے، جو افیون، ہیروئن اور مارفین جیسی نشہ آور اشیاء کا اہم ذریعہ ہے۔

اس تنازع کے بعد العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سابق اہلکار سے رابطہ کیا اور اس نے وضاحت کی کہ چرس، افیون اور پوست جیسی منشیات اب یورپی ممالک اور امریکا میں قانون کے مطابق استعمال کے لیے دستیاب ہیں اور اس میں کوئی جرم نہیں، اس لیے وہاں چاکلیٹ میں پوست کی موجودگی جرم نہیں سمجھی جاتی جبکہ مصر میں اس کا استعمال جرم ہے اور اس قسم کی امپورٹڈ چاکلیٹ کھانا منع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی شخصیات ہیں جو حساس ملازمتیں سنبھالتی ہیں اور ان کے ساتھ یونیورسٹی کے طلباء بھی ہوتے ہیں جن کے کام کے لیے وقتاً فوقتاً جانچ پڑتال کی ضرورت ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں