روس اور یوکرین

یوکرین: بوچا میں ابھی تک گھروں اور نواحی جنگلوں میں لاشیں پڑی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یوکرین کے وزیر داخلہ ڈینس موناستریسکی کا کہنا ہے کہ بوچا شہر میں ابھی تک درجنوں لاشیں گھروں میں اور شہر کے اطراف جنگلوں میں پڑی ہوئی ہیں۔ وزیر داخلہ نے منگل کے روز بوچا کا دورہ کیا تھا۔

ادھر یوکرین کے صدارتی مشیر اولیکسی اریستووچ نے گذشتہ شام یوٹیوب پر جاری ایک وڈیو کلپ میں بتایا کہ "بوچا کی صورت حال بد ترین نہیں ، جو کوئی بورودیانکا کا دورہ کرے گا وہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ وہاں کی صورت حال شرم ناک ہے"۔

بورودیانکا دارالحکومت کئیف سے تقریبا 50 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ روسی افواج حال ہی میں وہاں سے نکل گئی ہیں۔ اس کے بعد روسی افواج یوکرین کے مشرق میں دونباس کے علاقے میں عسکری از سر نو تعیناتی کے سلسلے میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ یوکرین کے شمالی قصبوں بالخصوص بوچا میں سامنے آنے والی تصاویر اور مناظر نے بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید کا دروازہ کھول دیا۔ یوکرین نے روسی افواج پر مذکورہ علاقوں میں "قتل عام" کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے۔

گذشتہ دو روز (4 اور 5 اپریل کے دوران) میں فرانس، جرمنی، اطالیہ، ہسپانیہ اور سلووینیا نے اپنے ہاں موجود سیکڑوں روسی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا۔

کیف کے شمال میں موجود شہر بورودیانکا کا منظر۔ [اے ایف پی]
کیف کے شمال میں موجود شہر بورودیانکا کا منظر۔ [اے ایف پی]

مغربی ممالک نے بوچا میں شہری لباسوں میں ملبوس درجنوں لاشیں ملنے کے بعد ماسکو ، اس کے سیاست دانوں اور ان کے گھر والوں کے خلاف مزید اقتصادی پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔ اس کے مقابل روس نے اس نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے کی "قطعی تردید" کی ہے۔ ماسکو نے ان تصاویر کو جعلی قرار دے کر ان کی مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ان کا مقصد روس اور اس کے فوجیوں کی ساکھ کو مسخ کرنا ہے۔ روس نے باور کرایا ہے کہ اس کے سفارت کاروں کو نکالنے جانے کا معاملہ توجہ سے محروم ہر گز نہیں رہے گا اور اس پر مماثل جواب دیا جائے گا۔

روس نے 24 فروری کو یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ اس پر مغربی ممالک یوکرین کے ساتھ صف آرا ہو گئے۔ انہوں نے ہتھیاروں اور امداد کے ذریعے یوکرین کی مدد کی۔ مزید یہ کہ ماسکو پر ہزاروں کڑی پابندیاں بھی عائد کر دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں