روس اور یوکرین

اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل میں روس کی رُکنیت معطل؛کریملن اپنے مفادات کادفاع کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یوکرین پر حملے کے ردعمل میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل میں روس کی رُکنیت معطل کردی ہے۔اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا ہے کہ روس اپنے مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔

پیسکوف نے برطانیہ کے اسکائی نیوزکو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس فیصلہ کے بارے میں معذرت خواہ ہیں لیکن ہر ممکن قانونی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کا دفاع جاری رکھیں گے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قبل ازیں جمعرات کو روس کی انسانی حقوق کونسل میں ’’انسانی حقوق کی سراسر اور منظم خلاف ورزیوں پررُکنیت‘‘ معطل کردی ہے۔

جنرل اسمبلی نے یوکرین کے قصبے بوچا میں روسیوں کے مظالم کے بعد یہ منظوری دی ہے۔اس قصبے میں یوکرین کے حکام گذشتہ اتوار کو داخل ہوئے تھے۔انھوں نے بتایا کہ روسی افواج نے وہاں 410 سے زیادہ مکینوں کا قتل عام کیا ہے۔

مقتولین کی لاشیں بوچا کی سڑکوں پر بکھری پڑی تھیں۔ان کی منظرام پر تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بعض مقتولین کے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے بندھے ہوئے تھے،انھیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا یا پکڑ کرپھانسی دینے کے انداز میں موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔

روسی فوج کے ان مظالم کے خلاف عالمی سطح پر سخت ردعمل کا اظہارکیاگیا ہے،اس کی بین الاقوامی سطح پرمذمت کا سلسلہ ہنوزجاری ہےاور مغربی رہ نماؤں نے اس قتل عام کو ’’جنگی جرم‘‘قراردیا ہے اور اس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم دوسری جانب روس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا کہ کیف نے مغربی ذرائع ابلاغ کے لیے’’اشتعال انگیزی‘‘کا مظاہرہ کیا ہے۔

پیسکوف نے بالاصرار کہاکہ بوچا کی گلیوں میں نظر آنے والی لاشیں اچھی طرح سے اسٹیج کیے گئے ڈرامے کاحصہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اس بات پراصرار کرتے ہیں کہ بوچا کی ساری صورت حال ایک اچھی طرح سے اسٹیج کی گئی بدحالی کی مظہرہے اورکچھ نہیں۔وہ غریب لوگ، وہاں موجود وہ لاشیں روسی فوجیوں کا شکار ہونے والوں کی نہیں تھیں‘‘۔

کریملن کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ روسی فوجیوں کو یوکرین میں ’’نمایاں نقصان‘‘اٹھانا پڑا ہے۔یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔تاہم انھوں نے روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد کی وضاحت نہیں کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق روس نے 25 مارچ کو کہا تھا کہ اس نے یوکرین میں اپنے1351فوجیوں کو کھو دیا ہے اور 3825 فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں