روس اور یوکرین

روس کو تین دہائیوں میں مشکل ترین صورت حال کاسامنا ہے:وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیراعظم میخائل میشوسٹن نے اعتراف کیا ہے کہ روس کو غیر معمولی مغربی پابندیوں کی وجہ سے تین دہائیوں میں مشکل ترین صورت حال کا سامنا ہے لیکن اسے عالمی معیشت سے الگ تھلگ کرنے کی غیرملکی کوششیں ناکام ہوجائیں گی۔

مغربی ممالک روس کو یوکرین میں اپنی فوجی کارروائی ختم کرنے اور مسلح افواج واپس بلانے پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی پابندیوں کو بتدریج وسیع کررہے ہیں جبکہ روس یوکرین میں اپنے اقدامات کو ایک ’’خصوصی آپریشن‘‘ قراردیتا ہے۔اس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ علاقے پر قبضہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے جنوبی پڑوسی کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کرنے اور خطرناک قوم پرستوں کو پکڑنے کے لیے کیا جارہا ہے۔

میشوسٹن نے جمعرات کو روسی پارلیمان کے ایوان زیریں دوما کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ صورت حال کو روس کے لیے تین دہائیوں میں سب سے مشکل قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ سرد جنگ کے سیاہ ترین دور میں بھی اس طرح کی پابندیوں کا استعمال نہیں کیا گیا۔

مغربی پابندیوں نے پہلے ہی روس کو عالمی مالیاتی نیٹ ورک سے الگ کر دیا ہے اور اس کے متعدد اعلیٰ بینکوں کو بین الاقوامی سوئفٹ بینکنگ پیغام رسانی کے نظام تک رسائی حاصل نہیں رہی ہے جبکہ کچھ تاجروں نے روسی تیل خرید کرنے سے انکارشروع کر دیا ہے جس سے ماسکوپر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

حالیہ پابندیوں سے قبل روس نے رواں سال 13 کھرب (1.3 ٹریلین) روبل (17 ارب ڈالر) کا فاضل بجٹ پیش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جو مجموعی ملکی پیداوار کے ایک فی صد کے برابر ہے۔میشوسٹن نے کہا کہ روس اس سال ریاستی امداد کے بل پر جو کچھ کمائے گا،وہ سب خرچ کردے گا۔

حکومت نے اب تک کاروباری اداروں، سماجی اخراجات اور بچوں والے خاندانوں کو بحران سے نمٹنے کی مد میں امداد میں دس کھرب روبل سے زیادہ کا وعدہ کیا ہے۔ان میں سے 250 ارب روبل روسی ریلوے کے لیے ریاستی امداد کی مد میں خرچ کیے جانے ہیں۔

روس نے پابندیوں کے جواب میں سرمائے پر کنٹرول متعارف کرایا ہے۔اس کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاراگر وملک سے باہرجانے کا فیصلہ کرتے ہیں توان کے لیے صنعتی اور مالی دونوں طرح کے اپنے اثاثے فروخت کرنا قریباً ناممکن ہو گیا ہے۔کریملن نے یہ تجویزدی ہے کہ روس انخلا کا فیصلہ کرنے والے مغربی سرمایہ کاروں کے پاس موجود اثاثوں کو قومیا سکتا ہے۔

وزیراعظم میشوسٹن نے کہا کہ چونکہ چھوڑنے والی کچھ کمپنیاں اپنی ہولڈنگ روسی کمپنیوں کو منتقل کر رہی ہیں، اس لیے اس صورت حال نے نئے کاروباری مواقع کی گنجائش پیدا کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا مالیاتی نظام برقراررہا ہے اور یہ پوری معیشت کی جان ہے۔اسٹاک مارکیٹ اور روبل مستحکم ہو رہے ہیں۔ مجھے شک ہے کہ کوئی اور ملک ایسا مقابلہ نہیں کرتاجیساہم نے مغربی پابندیوں کا کیا ہے۔

یورپی کمیشن نے منگل کے روز یوکرین پر حملے کے ردعمل میں روس کے خلاف نئی پابندیوں کی تجویزپیش کی۔اس میں روسی کوئلہ خریدنے اور یورپی یونین کی بندرگاہوں میں داخل ہونے والے روسی جہازوں پر پابندی بھی شامل ہے اور کہا کہ وہ روس سے تیل کی درآمد پر بھی پابندی لگانے پر کام کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں