یمنی صدر کا اپنے تمام اختیارات صدارتی لیڈرشپ کونسل کو سونپنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے صدر عبدربہ منصور ہادی نے دو اہم فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یمن کے نائب صدر علی محسن الاحمر کو برطرف کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ ملک میں ایک "پریذیڈینشل لیڈرشپ کونسل" تشکیل دے کر صدر کے تمام اختیارت کونسل کے حوالے کر دیے ہیں۔

آج جمعرات کی صبح جاری صدارتی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ نئی صدارتی کونسل پوری عبوری مدت میں ریاست کے سیاسی ، عسکری اور سیکورٹی انتظامی امور سنبھالے گی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی (سبا) کے مطابق صدارتی کونسل فائر بندی کے حوالے سے حوثیوں کے ساتھ مذاکرات کی بھی ذمے داری نبھائے گی۔

صدارتی کونسل 8 ارکان پر مشتمل ہے۔ اس کے سربراہ رشاد محمد العليمی ہیں۔ کونسل کے دیگر ارکان میں سلطان العرادہ، طارق صالح، عبدالرحمن ابوزرعہ، عبدالله العليمی، عثمان مجلی، عيدروس الزبيدی اور فرج البحسنی ہیں۔

عبدربہ منصور ہادی کے مطابق صدارتی لیڈرشپ کونسل کی تشکیل عبوری مرحلے کی ذمے داریوں پر عمل درامد کی تکمیل کے لیے عمل میں آئی ہے۔ ہادی نے کہا کہ وہ آئین اور خلیجی منصوبے کے تحت اپنے تمام اختیارات کونسل کو سونپ رہے ہیں۔

صدارتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدارتی کونسل کی سپورٹ اور مدد کے لیے 50 ارکان پر مشتمل ایک اتھارٹی برائے مشاورت و مصالحت بنائی جائے گی۔

صدارتی فیصلے کے مطابق صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ کو درج ذیل امور میں اختیارات حاصل ہوں گے :

- مسلح افواج کی سپریم کمان.

- اندرون و بیرون ملک جمہوریہ کی نمائندگی.

- صوبوں کے گورنروں ، سیکورٹی سربراہان ، عدالت عظمی کے ججوں اور مرکزی بینک کے گورنر کا تقرر.

- کابینہ کی موافقت سے ایسے معاہدوں کی منظوری جن میں پارلیمنٹ کی آمادگی کی ضرورت نہیں.

ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی

- قانون کے مطابق سفارتی مشنوں کی تشکیل اور اور سفیروں کا تقرر اور طلبی.

- ضرورت پڑنے پر کابینہ کو صدارتی لیڈر شپ کونسل کے سربراہ کے ساتھ مشترکہ اجلاس کی دعوت.

- صدارتی کونسل کے معمول کے مطابق اور غیر معمولی اجلاسوں کے انعقاد کی دعوت.

صدارتی لیڈرشپ کونسل کی مدت جامع سیاسی حل اور پورے یمن میں مکمل امن کے استحکام پر پوری ہو گی۔ اس میں نئے آئین کے مطابق انتخابات کا اجرا اور ملک میں نئے صدر کا تقرر شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں