روس اور یوکرین

یوکرین میں ممکنہ ’کیمیائی حملوں‘سے نمٹنے کے لیے ڈبلیوایچ او کا ہنگامی منصوبہ تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے یورپی سربراہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ یوکرین میں ممکنہ’’کیمیائی حملوں‘‘ سے نمٹنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے علاقائی ڈائریکٹر برائے یورپ ہانس کلوگے نے یوکرین کے علاقے لویو سے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ غیریقینی صورت حال کے پیش نظر اس بات کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے کہ جنگ مزید ابترنہیں ہوگی۔

انھوں نے مزید تفصیل فراہم کیے بغیرکہا کہ ڈبلیو ایچ او تمام منظرناموں پرغور کررہا ہے اوران تمام مختلف حالات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تیاری کررہا ہے جو یوکرین کے عوام کو متاثر کرسکتے ہیں اور ان میں بڑے پیمانے پرزخمیوں کے مسلسل علاج سے لے کرکیمیائی حملوں تک سے نمٹنے کی تیاری شامل ہے۔

مغربی حکام بارباریہ خدشہ ظاہرکررہے ہیں کہ روس یوکرین میں کیمیائی اورحیاتیاتی ہتھیاراستعمال کر سکتا ہے جس کے اثرات ملک سے باہر پھیلنے کا خطرہ ہے۔

دوسری جانب روس کی وزارت دفاع نے ثبوت فراہم کیے بغیریوکرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی حملے کی منصوبہ بندی کررہا ہے تاکہ اس پر روس کو موردالزام ٹھہرایا جارہا ہے۔

اسی تقریر میں، جو لویو میں فضائی حملے کے سائرن کی وجہ سے تاخیرکا شکار ہوئی تھی، کلوگے نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او یوکرین سے آنے والے مریضوں کے لیے یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں ہے اور انھیں یورپ میں علاج کے لیے بھیجنے کا انتظام کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او پہلے ہی یوکرین بھر میں 185 ٹن سے زیادہ طبّی سامان مہیا کرچکا ہے اور مزید 125 ٹن راستے میں ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق یوکرین میں حفظانِ صحت کے بنیادی ڈھانچے پر91 حملے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں روس کی چڑھائی کے بعد 73 افراد ہلاک ہوئے ہیں مگر اس نے ان ہلاکتوں کے کسی ذمہ دار کا تعیّن نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں