امریکی پولیس کا بھیس بدلنے والےایرانی کا پاکستانی انٹیلی جنس کے ساتھ تعلقات کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک امریکی وفاقی پراسیکیوٹر نے جمعرات کو عدالت کو بتایا کہ واشنگٹن میں زیر حراست افراد میں سے ایک جس نے اپنی شناخت ایک وفاقی ایجنٹ اور امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ملازم کے طور پر کی ہے کے پاکستانی انٹیلی جنس سروس سے روابط تھے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ملزمان میں سے ایک ایرانی نژاد ہو سکتا ہے۔

مشتبہ ملزمان میں 40 سالہ آرین طاہر زادہ اور 36 سالہ حیدر علی پر الزام ہے کہ انہوں نے خود کو امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایجنٹ کے طور پر جھوٹی شناخت دلائی اور امریکی خفیہ سروس کے ارکان کو مہنگے تحائف فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان میں ایک خاتون اول جیل بائیڈن کی حفاظت پرمامور اہلکار بھی شامل ہے جسے مبینہ طورپر تحائف دینے کی کوشش کی گئی۔

امریکا میں فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ریڈیو فردا نے عدالت میں وفاقی پراسیکیوٹر جوشوا رتسٹین کے حوالے سے بتایا کہ 2019 میں اور صرف چند ماہ قبل دونوں مدعا علیہان نے واشنگٹن میں اپنے اپارٹمنٹ میں سیکیورٹی ایجنٹوں کی میزبانی کی۔ ان میں سے ایک "حیدر" علی" نے ہر شہر کا سفر کیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے اس اہلکار نے یہ بھی وضاحت کی کہ"حیدر علی" نے گواہوں پرالزامات لگائے کہ اس کے پاکستانی انٹر سروسز انٹیلی جنس "آئی ایس آئی" سے تعلقات تھے۔

امریکی ریڈیو کے مطابق ان دونوں افراد کے محرکات اور اصلیت کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے لیکن ان دونوں افراد کے ناموں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے ایک ایرانی نژاد ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ نام اور کنیت "آرین طاہر زادہ" پاکستان میں استعمال نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک ایرانی نام ہےجب کہ "حیدر علی" پاکستانی ہے اور کسی خاص فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔

رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں افراد کا معاملہ اس وقت ایک فوجداری مقدمے کے طور پر زیر تفتیش ہے اور ابھی تک ’’قومی سلامتی‘‘ کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا تاہم امریکی انٹیلی جنس سروس نے مشتبہ افراد کے ساتھ روابط کی وجہ سے اپنے چار ایجنٹوں کو کام سے معطل کر دیا۔

عدالت میں پیش کیے گئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن میں ’ارین طاہرزادہ‘ اور ’حیدر علی‘ کا اپارٹمنٹ ایک ایسی عمارت میں واقع ہے جس میں پینٹاگان کے ملازمین سمیت امریکی سیکیورٹی اور وفاقی ملازمین کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔

کیمرے اور نگرانی کا سامان نصب کرنا

پراسیکیوٹر کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملزمان نے اپارٹمنٹ میں کیمرے اور دیگر نگرانی کا سامان نصب کیا اور دوسرے رہائشیوں کو بتایا کہ انہیں شبہ ہے ملزمان نے ان کے موبائل تک رسائی حاصل کی ہے۔

اس کے علاوہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ عرصے بعد ایک تیسرے شخص کو "امریکی محکمہ دفاع کے ایجنٹ" کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا کام سونپا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ "آرین طاہر زادہ" نے خاتون اول کی سیکیورٹی ٹیم کے ایک خفیہ عنصر کو 2,000 ڈالرکا ہتھیار بطور تحفہ پیش کیا اورامریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے متعدد ملازمین کو اپارٹمنٹس پیش کیے۔ ہر ہاؤسنگ یونٹ کا کرایہ تقریباً 4,000 ہزار ڈالرماہانہ ہے۔

اٹارنی جنرل راٹسٹین نے جج سے کہا کہ وہ ان دو امریکیوں کی حراست میں توسیع کریں جنہیں بدھ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں