یوکرین روس کے ساتھ مذاکرات کے لیے’اب بھی تیار‘ ہے: زیلنسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یوکرین کے صدرولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ماسکو کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کو’اب بھی تیار‘ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان کیف کے نزدیک واقع قصبے بوچا اور دوسرے علاقوں میں روسی فوج کے ہوشربا مظالم کے انکشاف کے بعد سے مذاکرات تعطل کا شکار ہے۔

بوچا کا دورہ کرنے والے آسٹریا کے چانسلر کارل نیہیمر کے ساتھ پریس کانفرنس میں زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین ہمیشہ بات چیت کوتیاررہا ہے اور اس جنگ کو روکنے کے لیے کسی بھی طریقے کی تلاش میں ہے۔

انھوں نے متوقع روسی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ متوازی طور پر ہم اہم لڑائی کی تیاری دیکھ رہے ہیں،کچھ لوگ اسے مشرق میں فیصلہ کن جنگیں کہتے ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ہم سفارت کاری کے ذریعے اس جنگ کے خاتمے کے لیے تیارہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔

دونوں فریقوں کے درمیان 29 مارچ کوترکی میں آخری مرتبہ بالمشافہہ مذاکرات ہوئے تھے ۔ان میں یوکرینی مذاکرات کاروں نے کسی تیسرے فریق کی جانب سے سلامتی کی ضمانت کے بدلے اس کی ثالثی قبول کرنے کا اشارہ دیا تھا۔

زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ملک کے مشرق اور جنوب میں ہم نے ہتھیاروں، سازوسامان اور فوجیوں کا ارتکاز دیکھا ہے اوریہ ہمارے علاقے کے ایک اور حصے پر قابض ہونے کی تیاری لگتی ہے۔

ان کی رائے میں ’’کسی بھی نئے روسی حملے کے نتائج کا انحصار ’’کئی عوامل‘‘ پر ہوگا۔ان میں یوکرین کی’طاقت، ہمارے شراکت دار ہمیں کتنی جلدی اسلحہ فراہم کرتے ہیں اور روسی صدر ولادی میر پوتین کی مزید آگے بڑھنے کی خواہش شامل ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں