اسرائیل کے تواتر کے ساتھ حملوں نے شام میں ایرانی عزائم ناکام بنا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شام میں اسرائیلی فضائی حملوں کی مہم نے ایران کے فوجی عزائم میں رکاوٹ ڈال کر انہیں ناکام بنا دیا لیکن تنازع کو دوسرے میدانوں میں دھکیل دیا۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر کی حیثیت سے ریٹائر ہونے والے جنرل امیکم نورکن نے تصدیق کی کہ اس مہم نے 100 فیصد کے قریب کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی کارروائیاں نہ ہوتیں صورتحال مزید منفی ہوتی۔

400 فضائی حملے

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے 2017 سے شام اور مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی ایک بڑے پیمانے پر مہم کے حصے کے طور پر 400 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔

اسرائیلی رہ نماؤں نے اس مہم کو "جنگوں کے درمیان جنگ" سے تعبیر کیا ہے جس کا مقصد ایران کو روکنا اور دو علاقائی دشمنوں کے درمیان کھلی جنگ کی صورت میں اسرائیل پر حملہ کرنے کی تہران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

روسی دفاعی نظام اور ڈرونز

اسرائیل نے شام میں جن اہداف کو نشانہ بنایا ہے ان میں روسی فضائی دفاعی نظام، ایرانی فوجی مشیروں کے زیر انتظام ڈرون اڈے، لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے لیےقائم مراکز اور گائیڈڈ میزائل سسٹم شامل ہیں۔

اسرائیل میں قائم ایک کنسلٹنسی’ نارتھ اسٹار سیکیورٹی اینالیسس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق حملوں میں 300 سے زائد افراد بھی مارے گئے، جن میں ایرانی فوجی کمانڈر، شامی فوجی، تہران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند اور کم از کم تین شہری شامل ہیں۔

اسرائیلی انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایک ریسرچ فیلو کارمیٹ ویلنسی نے کہا کہ اس مہم کے نتیجے میں بڑی حد تک ایرانی افواج کو اسرائیلی سرحد کے قریب واقع مقامات سے مشرقی شام میں محفوظ علاقوں کی طرف ہٹا دیا گیا ہے۔

سرحد سے ایرانی انخلاء

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک موثر حکمت عملی ہے، لیکن یہ ایران کے اسرائیل کے قریب آنے سے روکنے اور اسے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے۔"

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے ہفتے کے روز وسطی شام میں حما کے دیہی علاقوں میں "ایرانی فیکٹریوں" پر پرتشدد حملے کیے جو یوکرین میں روسی جنگ کے آغاز کے بعد سے اپنی نوعیت کا سب سے بڑا حملہ ہے۔

ایک فوجی ذرائع کے مطابق اسرائیلی چھاپوں میں مصیاف میں سائنسی تحقیقی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ سیریئن آبزرویٹری نے کہا کہ اسرائیل نے جس جگہ کو نشانہ بنایا ہے اس میں ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنانی حزب اللہ سے وابستہ مسلح گروپ شامل ہیں۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میزائلوں نے شہر مصیاف کے آس پاس کے متعدد مقامات، السویدی گاؤں کے ایک مقام اور مغربی حما کے دیہی علاقوں میں زاوی میں دفاعی فیکٹریوں کو نشانہ بنایا۔ ابھی تک ان حملوں میں ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں