افغانستان وطالبان

افغان شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک، طالبان نے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان میں طالبان حکومت نے گذشتہ روز اتوار کو کابل میں ایران کے سفیر کو طلب کر کے ایران میں مقیم افغان عوام کے ساتھ خراب برتاؤ پر احتجاج کیا۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر گردش میں آنے والے کئی وڈیو کلپوں میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو ایرانی پولیس اہل کاروں اور بعض ایرانی شہریوں کے ہاتھوں ناروا سلوک کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

افغان وزارت خارجہ کے نگراں امیر خان متقی نے ایرانی سفیر بہادر امینیان کو آگاہ کیا کہ یہ تصرفات دو طرفہ تعلقات کے لیے برے نتائج کے حامل ہوں گے۔ امیر خان نے مطالبہ کیا کہ "افغان شہریوں کے ساتھ برا سلوک روک دیا جائے"۔

دوسری جانبھ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی تہران حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان شہریوں کے ساتھ "برے برتاؤ" کا سلسلہ روکا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان حکومت کو کئی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن سے ایران میں افغان عوام کے ساتھ ناروا سلوک کی تصدیق ہوتی ہے۔

بی بی سی (فارسی) سے گفتگو کرتے ہوئے مجاہد نے کہا کہ ایرانی حکام پر لازم ہے کہ وہ افغان مہاجرین کو ان کی خواہش کے مطابق اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طالبان حکومت سفارتی ذرائع سے اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔

کابل میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور افغانستان کے تعلقات کو ایک "سازش" کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق ایران میں پچاس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین ہیں اور انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایرانی شہریوں کے پاس ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں