دبئی کی آرٹی اے نےای اسکوٹرقوانین کاخاکاپیش کردیا؛ غلط پارکنگ پر54 ڈالرجرمانہ متعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دبئی کی روڈ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) نے مجاز مقامات سے باہرای اسکوٹر پارک کرنے پر 54.45 ڈالر (200 درہم) جرمانہ عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آر ٹی اے کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں نئے جرمانے کا اعلان الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے متعلق دیگر نئے قواعد کی تفصیل ساتھ کیا گیا ہے۔

آر ٹی اے نے یہ بھی کہا ہے کہ جو کوئی ای اسکوٹر لائسنس حاصل کرنا چاہتا ہے،اس کی عمر 16 سال سے زیادہ ہونی چاہیے۔اتھارٹی نے امارت میں برقی اسکوٹر چلانے کے لیے 31 مارچ کو لائسنس لازمی قرار دیا تھا۔

اتھارٹی نے بتایا ہے کہ تربیتی کورس اورآن لائن ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد ویب سائٹ کے ذریعے پرمٹ حاصل کیا جا سکتا ہے اوراسے اپریل کے آخرتک لانچ کر دیا جائے گا۔اس اجازت نامے کی درخواست کوئی فیس نہیں اور یہ مفت دی جاسکتی ہے۔

اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جس کسی کے پاس متحدہ عرب امارات یا بین الاقوامی سطح سے کار یا موٹر بائیک ڈرائیونگ لائسنس ہے،اسے الگ سے ای اسکوٹر لائسنس کی ضرورت نہیں ہے۔

شہر کے دس مختلف علاقوں میں عوامی استعمال کے لیے کرایہ پرای اسکوٹر دستیاب ہوں گے،یہ مقامات درج ذیل ہیں:
شیخ محمد بن راشد بلیوارڈ، جمائرہ لیکس ٹاورز، دبئی انٹرنیٹ سٹی، الریگا، 2 دسمبر اسٹریٹ، دی پام جمائرہ اور سٹی واک۔

دو بین الاقوامی کمپنیاں (ٹائر اینڈ لائم) اور دو مقامی کمپنیاں (ارنب اور اسکرٹ) دبئی بھر میں کرائے پر 2000 اسکوٹر چلائیں گی۔

روڈز اورٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مطرالطائر نے ایک بیان میں کہا کہ ان علاقوں کا انتخاب مقررمخصوص معیار کی بناپر کیا گیا ہے،جیسا کہ آبادی کی زیادہ کثافت، خصوصی ترقیاتی علاقے، پبلک ٹرانسپورٹ اور میٹرواسٹیشنوں کے ذریعہ خدمات انجام دینے والے علاقے، مربوط بنیادی ڈھانچے کی دستیابی اور ٹریفک کے اعلیٰ سطح کے تحفظ والے علاقے وغیرہ۔

آرٹی اے نے اسکوٹروں پر سوار ہوتے وقت حفاظتی تقاضوں پرعمل کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ان میں عکاسی کرنے والی واسکٹ اور ہیلمٹ پہننا، دیگر گاڑیوں سے محفوظ فاصلہ برقراررکھنا، اضافی مسافروں کو لے جانا، موڑوں کی نشان دہی کے لیے ہاتھ کے اشاروں کا استعمال اور 60 کلومیٹر فی گھنٹا کی حدرفتار والی سڑکوں پر گاڑیوں کا استعمال نہ کرنا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں