رمضان المبارک کے دوران مسجد حرام میں 1,000 خواتین رضا کار معتمرین کی خدمت پر مامور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خواتین کو بااختیار بنانے اور وسائل اور صلاحیتوں تک ان کی رسائی اور سعودی وژن (2030) کے حصول کے لیے ترقیاتی منصوبے میں ان کی شرکت کے تناظر میں فیلڈ اور اسٹریٹجک منصوبوں کے مطابق خواتین کی بڑی تعداد کو حرمین شریفین میں خدمات پر مامور کیا ہے۔

صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کی رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران مسجد حرام میں 1018 خواتین رضاکاروں کو زبانوں کے تراجم، سمیت متعدد شعبوں میں، بزرگوں کی مدد اور نقل و حرکت کی خدمات (الیکٹرک گاڑیوں) میں تعاون اور دیگر سرگرمیوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ان خواتین کو قومی پلیٹ فارم کے ذریعے انسانی وسائل اور سماجی ترقی کی وزارت کا رضاکارانہ کاموں کے لیے بھرتی کیا ہے۔

مسجد حرام میں سماجی خدمات اور خواتین کے رضاکارانہ کام کے شعبے کی ڈائریکٹر بیان الہذلی نے کہا کہ رضاکارانہ کام بیت اللہ میں آنے والی خواتین کے فائدے اور ان کے لیے خدمات کی فراہمی کے ذریعے ایک بہت بڑا اجر ہے۔ حکومت کی طرف سے خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی کے نتیجے میں مسجد حرام میں خواتین کی خدمات کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ان پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ خواتین کی ثقافتی اور لسانی خدمات سمیت ان کی مہارتوں سے استفادے کا بھرپور موقع ملا ہے۔

14 سرکاری اور خواتین کے خیراتی ادارے

الہذلی نے مزید کہا کہ سعودی ویژن 2030 نے مسجد حرام میں کام کرنے والی خواتین کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنے تمام وسائل، سائنسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو حجاج اور زائرین کی خدمت میں استعمال کر سکیں، تاکہ رضاکارانہ خدمات کے میدان میں مقامی اور بین الاقوامی قیادت حاصل کی جا سکے۔ تاکہ مردوں اور خواتین کو عبادت میں آسانی اورسہولت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال 1443ھ مسجد حرام میں فلاحی خدمات انجام دینے والے خیراتی اداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا جب کہ 14 سرکاری اور خواتین کے خیراتی ادارے کام کررہے ہیں جن میں تین شفٹوں میں خواتین کی بڑی رضا کارانہ خدمات انجام دیتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں