روس اور یوکرین

شام میں فوجی کارروائی کے نگران روسی جنرل اب یوکرین میں فوج کی کمان کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس نے یوکرین میں اپنی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے ایک نیا کمانڈرمقررکیا ہے جبکہ وہ ملک کے مشرق میں اپنی جنگی کوششوں پردوبارہ منظم کررہا ہے اوروہ دارالحکومت کیف کے آس پاس کے علاقے کو محفوظ بنانے میں ناکام رہا ہے۔

مغرب کے سکیورٹی حکام اورسفارت کاروں کے مطابق روس کی جنوبی فوجی کمان کے کمانڈرجنرل الیگزینڈر دفورنیکوف اب یوکرین میں بری روسی فوج کی قیادت کریں گے۔البتہ کریملن نے ابھی ان کے تقررکا اعلان نہیں کیا ہے۔

60 سالہ جنرل دفورنیکوف روسی فوج میں کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ان میں مشرق بعید کے فوجی ضلع کے کمانڈر کا عہدہ بھی شامل ہے۔ انھوں نے 2015 اور 2016 میں شام میں ماسکو کی افواج کی نگرانی کی تھی جہاں انھوں نے شامی حکومت کے فوجیوں کے ساتھ مل کرباغیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا اورجہاں صدر بشار الاسد پراپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیاگیا تھا۔

یوکرین میں روسی فوج کی جنگ کو سات ہفتے گزرچکے ہیں اور اب روس نے یوکرین کے شمال سے اپنی فوجیں بڑی حد تک واپس بلا لی ہیں۔وہاں اس کے فوجیوں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یوکرین کے میزائل حملوں کی وجہ سے ماسکو نے متعدد ٹینک اور طیارے بھی کھوئے۔

اب ماسکو کی توجہ مشرقی علاقے ڈونبس اور بحیرہ اسود کے کنارے واقع قصبوں اور شہروں بشمول ماریوپول پر مرکوز ہے جو پہلے ہی کئی ہفتوں سے محاصرے میں ہے۔ ایسا کرنے سے اسے کریمیا اور روس کے درمیان زمینی پل بنانے کا موقع ملے گا۔یوکرین کی اس جمہوریہ پر روس نے 2014 میں قبضہ کر لیا تھا

انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعات جنگ کے مطابق دفورنیکوف اب تک یوکرین کے جنوب اورمشرق میں کارروائیوں کے ذمے دار تھے۔9 اپریل کو ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر ایک کمانڈر کی کمی نے واضح طور پر روسی افواج کے تعاون میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ادارے نے مزید کہا کہ زیادہ آسان ڈھانچے کے باوجود روس شاید اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول انتظامات کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ڈونبس جانے والی زیادہ تر کمک دفورنیکوف کی سربراہی میں دیگر فوجی اضلاع سے حاصل کی گئی ہے۔

ادھرامریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اتوار کے روز سی این این کے ’’اسٹیٹ آف دی یونین‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی جنرل کا تقرراس حقیقت کو مٹا نہیں سکتا کہ روس کو پہلے ہی یوکرین میں تزویراتی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ صدرپوتین کس کو کمانڈر مقرر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ آپ نے نوٹ کیا، اس مخصوص جنرل کے پاس اپنا ایک کوائف نامہ ہے جس میں شام میں شہریوں کے خلاف سفاکیت کا عملی مظاہرہ شامل ہے اور ہم اس تھیٹر میں اسی طرح کی مزید توقع کرسکتے ہیں‘‘۔

یوکرین ، امریکا اور دیگر ممالک نے روسی فوجیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ بوچا سمیت شمال میں اپنے زیر قبضہ قصبوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور وہاں سے روسی افواج کے انخلا کے بعد عام شہریوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔

افغانستان میں نیٹو افواج کے سابق کمانڈرامریکی جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اتوار کے روز سی این این کو بتایا کہ کمانڈ کا زیادہ منظم ڈھانچا روس کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ دوسری جنگ عظیم کے فتح کے دن 9 مئی تک جیت کے طور پر کچھ دعویٰ کرسکے۔

پیٹریاس نے یہ بھی کہا کہ ’’مزید شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے۔روسیوں کو شام میں بنیادی طور پر ان علاقوں کے لیے جانا جاتا تھا جن کا حوالہ دیا گیا ہے۔انھوں نے حلب کے ساتھ یہی کیا تھا،شام کے دوسرے علاقوں میں یہی کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ ہم ایسے ہی کردار کی توقع کر سکتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں