روس اور یوکرین

ماریوپول پر حملہ کریں گے، کیف میں داخل ہو جائیں گے: چیچن سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تقریبا دو ماہ قبل یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے چیچن سربراہ رمضان قدیروف کئی بار اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر یوکرین میں لڑائی میں چیچن فورسز کی شرکت کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔

آج پیر کی صبح تازہ ترین بیان میں روسی صدر ولادی میر پوتین کے حلف نے باور کرایا کہ روسی افواج یوکرین کے جنوب مشرق میں محصور ساحلی شہر ماریوپول ، دارالحکومت کئیف اور دیگر شہروں پر حملہ کریں گی۔ ٹیلی گرام پر جاری وڈیو پیغام میں انہوں نے مزید کہا کہ "پہلے ہم لوجاسک اور دونیسک پر مکمل کنٹرول حاصل کریں گے۔ پھر اس کے بعد کیف اور دیگر تمام شہروں کا کنٹرول سنبھالیں گے"۔

قدیروف گذشتہ ماہ مارچ کے وسط میں ایک تصویر میں تقریبا 30 مسلح افراد کے بیچ نظر آئے تھے۔ اس تصویر کے بارے میں دعوی کیا گیا تھا کہ یہ یوکرین کے شہر ماریوپول کی ہے۔

روس کے ہمنوا رمضان قدیروف جنگ شروع ہونے کے بعد اپنی کئی ریکارڈ شدہ وڈیوز جاری کر چکے ہیں۔ ان وڈیوز میں وہ اپنے فوجیوں کی "کئیف کے نازیوں" کے سامنے بہادری کو سراہتے ہیں۔

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آغاز 24 فروری کو ہوا تھا۔ بحیرہ آزوف پر واقع ماریوپول شہر روس کا تزویراتی ہدف ہے۔ بالخصوص اس پر قبضہ کر لینے سے مشرق میں روس کے ہمنوا علاحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو جنوب میں جزیرہ نما قرم کے ساتھ مربوط کیا جا سکے گا۔ روس نے 2014ء میں قرم کو اپنی حدود میں شامل کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں