یمن اور حوثی

یمن میں حوثی ملیشیا نے پٹرول کی قیمتوں میں 27 فیصد اضافہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کل اتوارکو یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اعلان کیا کہ اس نے یمن میں اپنے زیر انتظام علاقوں میں پٹرول کی نئی قیمتیں مقرر کی ہیں۔ ان قیمتوں میں پٹرول کے نرخوں میں27 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ صنعا میں پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایندھن کا شدید بحران جاری ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے ایران نواز ملیشیا کے ایک رہ نما کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کی شام سے نافذ العمل ہونے والے اس فیصلے کے مطابق سرکاری اسٹیشنوں میں 20 لیٹر کی گنجائش والے ایک گیلن پٹرول کی قیمت بڑھ کر 12,600 ریال (تقریباً 23 ڈالر) ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کے بعد ایک لیٹر 625 ریال بڑھا کر 9900 ریال کردی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یمن میں ایرانی بازو حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں پٹرولیم مصنوعات تقریباً دو ماہ قبل ایک تاریخی اضافے کے بعد ایک گیلن پٹرول (20 لیٹر) کی قیمت 39,000 سے تجاوز کر گئی تھی۔ حوثی ملیشیا بلیک مارکیٹ میں پٹرول فروخت کررہی ہے جو شہریوں کی لوٹ مار کے مترادف ہے۔

صنعاء کے شہریوں اور رہائشیوں نے تصدیق کی کہ پٹرول کی قیمتیں غیر معمولی سطح تک بڑھ گئی ہیں۔ ہفتے کی شام پٹرول کے ایک گیلن کی قیمت 39,000 یمنی ریال تک پہنچ گئی۔

صنعاء اور حوثیوں کے زیر کنٹرول گورنریوں میں لگاتار دوسرے مہینے پٹرول، ڈیزل اور گھریلو گیس کا بحران ہے۔ نقل و حمل کی قیمتوں، بجلی کے بلوں اور اشیائے خوردونوش میں اضافے نے شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں