’مطالعے کا ذوق نہ ہوتا تو پائلٹ کبھی نہ بن پاتا‘

صاحب تصنیف سابق سعودی پائلٹ کی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے سیر حاصل گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

سعودی عرب کے ایک سابق پائلٹ نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی روز مرہ کی زندگی کا رخ کچھ ایسے بدلا کہ وہ آج ریٹائرڈ پائلٹ سے زیادہ ایک لکھاری اور مصنف کے طورپر جانتے جاتے ہیں۔

انہوں نے اپنے پیشہ واروانہ کیریئر کا آغاز فوجی لڑاکا طیاروں سے آسمان پر پرواز سے کیا یہاں تک کہ وہ سعودی فضائیہ کے ایک بڑے جنرل پائلٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ اس کےبعد وہ ثقافتی اور علمی شعبوں میں اپنے کیریئر کو مکمل کرنے کے لیےاگلی صفوں تک پہنچ گئے۔

میجر جنرل پائلٹ عبداللہ السعدون شوریٰ کونسل اور عرب پارلیمنٹ کے سابق رکن ہیں۔ انہوں نے سعودی اخبار ’الرائے‘ کے لیے بطور کالم نگار کام کیا اور ’عشت سعیدا اور ’العضہ‘ نامی کتابیں لکھیں۔

السعدون الغاط میں پیدا ہوئے۔ دو سال کی عمر میں ان کےوالد فوت ہوگئے۔ انہوں نے پرائمری تک تعلیم آبائی گاؤں کے ایک اسکول سے حاصل کی۔ ان کی پرورش ان کی ماں نے کی۔ یہ وہ دور تھا جب پانی اور بجلی جیسی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنے بچپن، اپنی زندگی اور اپنے عسکری اور ثقافتی تجربے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وہ پرائمری پاس کرنے کے بعد ریاض منتقل ہوگئے۔ الغاط میں کوئی مڈل اسکول نہیں تھا۔ وہاں انہوں نے ابن خلدون انٹرمیڈیٹ اسکول اور الیمامہ ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔

اس کے بعد وہ شاہ فیصل ایئر کالج میں داخل ہوگئے۔ انہوں نے پہلی پوزیشن میں ایروناٹیکل سائنسز میں گریجوایشن کی۔ جہاں انہوں نے گاڑی سے پہلے ہوائی جہاز اڑانا سیکھ لیا اور سعودی عرب کے اندر اور باہر ہوابازی اور ڈرائیونگ کے کورسز کیے۔ انہوں نے امریکا کے بہترین اسکولوں میں ہوابازی کی تعلیم اور تجربہ حاصل کیا۔

انہوں نے مملکت کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج سے ملٹری سائنسز میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔

فوجی تجربہ

السعدون نے وضاحت کی کہ ان کا عسکری شعبے میں تجربہ لفظ کے ہر معنی میں بھرپور رہا ہے، کیونکہ ایئر فورس نے مجھے طیاروں کو اڑانے اور جوانوں کو سکھانے کے بہترین مواقع فراہم کیے۔ میں نے ایک جنگی پائلٹ، پائلٹ انسٹرکٹر، اور پھر فائٹر سکواڈرن کمانڈر کے طور پر کام کیا۔ ایک سے زیادہ اڈوں پر خدما انجام دیں اور صنعا، یمن میں پائلٹ انسٹرکٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایئر فورس کمانڈ میں الیکٹرانک وارفیئر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ پھر کویت کو آزاد کرانے کے لیے اتحادی افواج کی قیادت میں چلے گئے اور آزادی کے بعد انہیں ریاض ایئر بیس کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد وہ بہ طور کمانڈرایئر فورس سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اتھارٹی کے سربراہ مقرر ہوئے۔

آخری پوزیشن کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مجھے کنگ فیصل ایئر کالج کا کمانڈر بناہا گیا۔ مجھے اس کالج میں کام کرنے سے بہت محبت تھی۔ میں نے پوری محبت کالج میں تعلیم، تربیت، ہوا بازی اور طلباء کی ٹریننگ دی۔ 35 سال کام کرنے کے بعد 2007 میں ایئر فورس سے ریٹائر ہوا۔

فوجی تجربے سے کیا سیکھا؟

ریٹائرڈ پائلٹ السعدون نے وضاحت کی کہ فوجی خدمات کے دوران میں نے کئی اہم سبق حاصل کیے۔ان میں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی، وہ کام اور مہمات انجام دینا جس کا میں حق دار ہوں، صحت کو برقرار رکھنا، وزن کو مثالی سطح پر رکھنا کیونکہ فائٹر پائلٹ کا سالانہ طبی معائنہ ہوتا ہے اور اپنی صحت اور وزن کو متوازن رکھنا ہوگوا ہے۔

ہمارے پیشروؤں کے خون میں لکھی گئی تعلیمات اور ہدایات میں یہ شامل رہا کہ ’اس پر دھیان رکھیں اور اس پر بھروسہ کریں‘۔ ان عادات کی وجہ سے مجھے فضائی اڈوں اور ان کے لیے تفویض کردہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مدد کی اور میں نے وطن، اس کی سلامتی اور طاقت بڑھانے کے لیے بھرپور کام کیا۔

میجر جنرل پائلٹ عبداللہ السعدون کا شوق تحصیل علم

مطالعے سے میرا لگاؤ ابتدائی سطح سے شروع ہوا۔ اس وقت سے یہ میرے ساتھ ہے اور میں فارغ وقت میں مطالعہ جاری رکھتا ہوں۔ مطالعہ کام کے مختلف مراحل میں میری برتری کا باعث بنا ہے۔ اگر میں مجھے مطالعے کا شوق نہ ہوتا تو میں سائیکل چلانے سے پائلٹ تک کا سفر نہ کرسکتا۔ یہ مطالعے ہی کا نتیجہ ہےکہ میں دو کتابوں کا مصنف بنا اور اخبار میں کالم نگاری کی۔

ورزش کا ذاتی زندگی پر اثر

میجر جنرل پائلٹ ریٹارئرڈ السعدون نے کہا کہ کھیلوں نے مجھے صحت اور اچھی صحبت دی۔ یہ میرے لیے پڑھائی کا ایک ساتھی ثابت ہوئیں۔ میں نے اضافی وقت میں ورزش اور مطالعے کو معمول بنا لیا۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ اس کی مشق کرتا ہوں، چہل قدمی کرتا ہوں، تیراکی، پیدل سفر، غوطہ خوری اور سائیکل چلانے سمیت کئی دوسری ورزشیں کرتا ہوں۔ یہ میری زندگی کا معمول بن چکی ہیں۔

ایک شخص اپنی زندگی میں متوازن کیسے رہ سکتا ہے؟

ترجیحات کا تعین اور وقت پاس رکھنا بھی ضروری ہے اور نظم و ضبط بھی ضروری ہے، صحت، خاندان اور کام میری اولین ترجیحات میں شامل ہیں جو اپنی صحت کو برقرار رکھتا ہے وہ ہر کام کر پاتا ہے۔ صحت اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ اس لیے میں ہمیشہ ہر اس چیز سے خبردار کرتا ہوں جو صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے، جیسے سگریٹ نوشی، موٹاپا، سستی اور دیر تک جاگنا۔

آپ کے لیے خاندان کی کیا اہمیت ہے؟

خاندان میرے لیے ہر چیز پر مقدم ہے۔ اپنی صحت کے ساتھ فوری طور پر جو چیز اہم ہے وہ اپنا خاندان ہے۔ میں لیکچرز اور ٹویٹس میں مردو خواتین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ شادی کریں اور خاندان شروع کریں اور تعلیم خاندان کی ترجیحات اور کاموں میں شامل ہے۔

کیا آپ ہمیں اپنے خاندان کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟

اپنے خاندان کے بارے میں السعدون نے انکشاف کیا کہ ان کے سات بچے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ وہ سبھی کامیاب اور بہترین شہری ہیں۔ میری ایک بیوی ہے جس سے میں پیار کرتا ہوں اور جو مجھ سے پیار کرتی ہے۔ میں اس کی عزت کرتا ہوں اور وہ میری عزت کرتی ہے۔ ہم نے مل کربچوں کی پرورش اور رہ نمائی کا کام انجام دیا اور بچوں کے لیے ایک مثال قائم کی، جو سب سے اہم ہے۔"

خاندانی معاون کون تھا؟

میں خوش قسمت تھا کہ میری ماں ہی میرا سب کچھ تھی۔ وہی میری ماں، وہی باپ اور بھائی، سہارا اور محرک تھی۔

ماحولیاتی میدان میں دلچسپی کا راز؟

ماحولیات میں ان کی دلچسپی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں السعدون نے کہا کہ میں نے مغرب، خاص طور پر امریکا میں سیکھا اور پھر اس بارے میں مطالعہ کرنے اور مشق کرنے سے تقویت ملی۔ ماحول ہماری اہم جگہ ہے، درخت پھیپھڑے، سایہ اور خوبصورتی ہیں۔

ریاض میں درخت لگانے کے مملکت کے اسٹریٹجک منصوبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ الحمد للہ، میں نے اس کی خواہش کی اور میں نے ایک سے زیادہ آرٹیکلز اور ٹویٹس اور شوریٰ کونسل میں اس کی وکالت کی۔ آج الحمد للہ مملکت کی قیادت ایک جدید اور ترقی یافتہ ملک قائم کر رہی ہے جس میں معیار زندگی پر توجہ دی جائے گی اور ماحول کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

شوریٰ کونسل کے رکن کی حیثیت سے کون سی سفارشات پیش کیں؟

اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میری زیادہ تر سفارشات تعلیم اور ترقی، صحت کی دیکھ بھال اور ماحولیات پر مرکوز ہیں۔ میں نے ایک ماحولیاتی پولیس کے قیام اورامر بالمعروف کے شعبے میں کام کرنے والے نوجوان کے فرائض کی وضاحت، اس کے علاوہ بہت سی دوسری سفارشات کیں۔

کیا تمام سفارشات کو مدنظر رکھا گیا ہے؟

تمام سفارشات پیش کی جاتی ہیں جب تک کہ سفارش کرنے والا رکن اسے واپس لینے یا ملتوی کرنے پر راضی نہ ہو۔ اسے کونسل کے اراکین کے سامنے پیش کرنے اور بحث کرنے کے بعد اس پر ووٹ دیا جاتا ہے اور اگر اس کے حق میں زیادہ ووٹ دیے جائیں تو یہ فیصلہ بن جاتا ہے اور اسے وزراء کی کونسل میں پیش کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں