روس اور یوکرین

ایرانی فوج عراق سے روس کواسلحہ اسمگل کرنے میں مدد دے رہی ہے:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایرانی نیٹ ورک عراق سے روس میں ہتھیار اسمگل کرنے کے لیے کام کررہے ہیں جبکہ روس کا یوکرین کے دارالحکومت کیف پر فوری حملہ کرنے اور حکومت گرانے کا منصوبہ ناکام رہا ہے۔

برطانوی اخبارگارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق روس کو منتقل کیے جانے والے ہتھیاروں میں ایران کا باور373 میزائل نظام بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں پرمشتمل الحشد الشعبی نے مبیّنہ طور پر یکم اپریل کو برازیل کے ڈیزائن کیے گئے آسٹرو دوم راکٹ لانچر سسٹم کو حصوں میں توڑ کرایران بھیجا تھا۔

الحشدالشعبی نے 26 مارچ کو سلامجا سرحدی گذرگاہ کے ذریعے ایران کوراکٹ سے چلنے والے دستی بم اور اینٹی ٹینک میزائل بھیجے تھے۔رپورٹ میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ایک کمانڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہاں سے ایرانی فوج نے یہ ہتھیار سمندری جہاز کے ذریعے روس منتقل کیے ہیں۔

الحشد کے ایک ذریعے نے گارڈین کو بتایا کہ ہمیں اس بات کی پروا نہیں کہ بھاری ہتھیارکہاں جاتے ہیں کیونکہ ہمیں اس وقت ان کی ضرورت نہیں رہی ہے۔اس لیے امریکامخالف جوکوئی بھی ہے،وہ ہمیں خوش کرتا ہے۔

روس کو یوکرین پر حملے کی وجہ سے امریکا اور یورپ کی عاید کردہ مختلف النوع اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔یوکرین میں اس کی فوجی کارروائی اب دوسرے مہینے میں ہے۔

ان پابندیوں میں روس کے بینکوں، اشرافیہ،صدرولادی میر پوتین کے خاندان اوراسلحہ سازی کی صنعت کو نشانہ بنایا گیاہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ماسکویوکرین کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے میں ناکام ہونے کے بعد ضروری ہتھیاروں کے حصول کے لیے جدوجہد کررہا ہے۔

اگرچہ امریکانے روس کو پابندیوں سے بچنے یا اسے ہتھیارمہیا کرنے میں مدد دینے کی کوشش کے خلاف ممالک بالخصوص چین کو خبردار کیا ہے لیکن امریکی حکام نے ایران سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی ایسی اطلاعات پر توجہ نہیں دی ہے۔

تاہم پینٹاگون نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا تعلق انٹیلی جنس تشخیص سے ہے۔العربیہ نے اس پر تبصرے کے لیے محکمہ خارجہ سے بھی رابطہ کیا ہے لیکن اس نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں