ہرات میں ایرانی قونصل خانہ میں پُرتشدد احتجاج کے بعد تہران میں افغان ناظم الامورطلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں اپنے سفارتی مشن کے باہر پُرتشدد احتجاج کے بعد منگل کو تہران میں افغان ناظم الامور کو طلب کیا ہے۔

تہران نے افغانستان میں اپنے ان تمام سفارتی مشنوں کو تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان کیا ہے جن کے باہر افغانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

پیر کے روز ہرات میں ایرانی قونصل خانے کے باہر بیسیوں افغانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور ’’مرگ بر ایران‘‘ کے نعرے لگائے تھے۔افغانوں نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر مشتہر ہونے والی ویڈیوز کے بعد مظاہرے ہیں۔ان میں مبیّنہ طور پرایرانیوں کو افغان پناہ گزینوں کو مارتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

مظاہرین نے منتشر ہونے سے قبل قونصل خانہ میں آویزاں ایرانی پرچم جلا دیا اور نگرانی کے کیمروں کو نقصان پہنچایا۔انھوں نے قونصل خانے کے احاطے پر پتھر بھی پھینکے تھے۔

سوموار کوجنوب مشرقی شہر خوست میں بھی اسی طرح کا ایران مخالف احتجاج ہوا تھا۔دارالحکومت کابل میں ایرانی سفارت خانے کے باہربھی مشتعل افغانوں نے مظاہرہ کیا تھا۔افغان پناہ گزینوں پر تشدد کی ویڈیوز کے خلاف ایک اور مظاہرہ منگل کو کابل میں احمد شاہ مسعود اسکوائر کے قریب ہوا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل میں سفارت خانے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔بیان کے مطابق وزارت کے ڈائریکٹرجنرل برائے جنوبی ایشیا نے تہران میں افغان سفارت خانے کے ناظم الامورکو طلب کیا ہے تاکہ کابل میں ایرانی سفارت خانے اور ہرات میں قونصل خانے پرحملوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جا سکے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ایرانی سفارت خانے اور قونصلر سیکشنزنے مشنوں کی مکمل سلامتی کی ضمانت کی ضروری یقین دہانیوں تک اپنی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران پچاس لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا رہا ہے اورگذشتہ اگست میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے مزید افغانوں کی بڑی تعداد میں ایران میں آمد ہوئی ہے۔

یہ مظاہرے اختتام ہفتہ پرسوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کی تشہیر کے بعد ہوئے ہیں جن میں ایران کے سرحدی محافظوں اور ایک ہجوم کو ایران میں افغان پناہ گزینوں کی پٹائی کرتے ہوئے دکھانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔یہ واضح نہیں تھا کہ یہ ویڈیوزکب فلمائی گئی تھیں اور ان کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

اتوار کے روز کابل میں ایران کے سفارت خانے نے ان ویڈیوزکو’’بے بنیاد اور غلط‘‘ قرار دیا تھا۔طالبان کے اقتدار پرقابض ہونے کے بعد سے افغانستان مزید معاشی بحران کاشکارہو گیا ہے اور مغرب کی حمایت یافتہ سابق حکومت سے روابط نہ رکھنے والے افرادبھی بہترمعاش کی تلاش میں جنگ زدہ ملک سے راہ فراراختیار کررہے ہیں۔

روزانہ ہزاروں افغان کام کی تلاش میں یا پناہ کی امید میں یورپ جانے کے لیے ہمسایہ ملک ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ایران نے اب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں