زیلنسکی کا روسی فوجیوں پر’سیکڑوں خواتین کی عصمت ریزی‘ کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے صدرولودیمیرزیلنسکی نے منگل کے روز کہا کہ تفتیش کاروں کو ان علاقوں میں "عصمت ریزی کے سیکڑوں واقعات‘‘کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،جن پر حال ہی میں روسی فوجیوں نے قبضہ کر لیاتھا۔ان میں چھوٹے بچوں پر جنسی حملے بھی شامل ہیں۔

روسی فوجیوں پریوکرین بھرمیں عورتوں سے جنسی زیادتی سمیت مختلف مظالم کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔خاص طور پردارالحکومت کیف کے آس پاس کے علاقوں میں جہاں سے وہ اب پسپا ہو چکے ہیں جبکہ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

زیلنسکی نے ویڈیو لنک کے ذریعے لتھووینیا کے قانون سازوں کو بتایا کہ قابضین سے آزاد ہونے والے علاقوں میں روسی فوجیوں کے جنگی جرائم ریکارڈ کیے جارہے ہیں ان کی تحقیقات جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ نئی اجتماعی قبریں قریباًروزانہ دریافت کی جارہی ہیں۔ندی نالوں اورتہ خانوں میں لاشیں ملی ہیں۔متاثرین کے بیانات قلم بند کیے جارہے ہیں ، شہادتیں جمع کی جا رہی ہیں۔ہزاروں متاثرین ہیں۔ تشدد کے سیکڑوں واقعات رونما ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عصمت ریزی کے سیکڑوں واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ان میں کم عمرلڑکیوں اور بہت چھوٹے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات بھی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ کم سن بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا‘‘۔

لتھووینیا کے صدرگیتانس نوسیڈا نے اس آخری دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ’’اس سے بڑی دہشت کا تصور کرنا محض ناممکن ہے‘‘۔

متاثرین کے بیانات کو دستاویزی شکل دینے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں عصمت ریزی کو’’جنگ کے ہتھیار‘‘کے طور پراستعمال کیا جارہاہے۔

یوکرین کی ایک عورت نے اے ایف پی کو بتایا کہ دو روسی فوجیوں نے اسے اس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جب انھیں یہ معلوم ہواکہ اس کا شوہر فوجی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں