فرانس نے سفارت کار کے بھیس میں 6 مشتبہ روسی جاسوسوں کو بے دخل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس نے انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے اپنے علاقے میں خفیہ کارروائی کا انکشاف ہونے کے بعد چھے روسی سفارت کاروں کو ملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان روسیوں پر سفارت کی آڑ میں جاسوس کے طور پر کام کرنے کا شُبہ ظاہرکیا گیا ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ سفارتی آڑ میں کام کرنے والے چھے روسی ایجنٹوں کی سرگرمیاں ہمارے قومی مفادات کے منافی پائی گئی ہیں اور انھیں ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی ایس آئی داخلی انٹیلی جنس سروس نے طویل تحقیقات کے بعد 10اپریل کو انکشاف کیا تھا کہ ’’ہمارے علاقے میں روسی انٹیلی جنس سروسز کی جانب سے خفیہ کارروائی کی گئی ہے‘‘۔بیان میں آپریشن کی نوعیت کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی گئی۔

فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمینن نے کہا کہ ڈی جی ایس آئی نے ’’روسی خفیہ ایجنٹوں کے نیٹ ورک کو ناکام بنا دیا ہے،انھوں نے ہمارے مفادات کے خلاف کام کیا تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ڈی جی ایس آئی نے جاسوسی کی اس سرگرمی کے خلاف قابل ذکرآپریشن کیا ہے۔انھوں نے سرغرساں ادارے کی تعریف کی ہے کہ وہ ’’سائے میں رہتے ہوئے ہمارے بنیادی مفادات کی دیکھ بھال کررہا ہے‘‘۔

یہ اقدام 4 اپریل کو فرانس کے اس بیان کے بعدکیا گیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد مشترکہ یورپی کارروائی کے حصے کے طور پر 35 روسی سفارت کاروں کو بے دخل کررہا ہے۔

اس وقت اس نے ان سفارت کاروں کو’’فرانس میں تعینات سفارتی حیثیت رکھنے والے روسی اہلکار‘‘قرار دیا تھامگر ان کی سرگرمیاں فرانس کے قومی سلامتی کے مفادات کے خلاف پائی گئی تھیں‘‘۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ نکالے گئے چھے روسی اہلکار پہلے سے اعلان کردہ 35 سفارت کاروں اور دیگر عملہ کےعلاوہ تھے۔

متعدد یورپی ممالک نے اپنے ہاں روسی سفارت کاروں کو بے دخل کر دیا ہے، خاص طور پریوکرین کے دارالحکومت کیف کے نزدیک واقع بوچا شہر میں قتل عام کے خلاف یورپ بھر میں غم وغصے کی لہردوڑ گئی ہے۔بوچا میں درجنوں تعفن زدہ لاشیں اجتماعی قبروں یا سڑکوں پر ادھرادھربکھری پڑی ملی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں