پاسداران انقلاب بدستوردہشت گرد رہے:سیکڑوں ایرانی نژاد امریکیوں کا صدربائیڈن سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پانچ سو سے زیادہ ایرانی نژاد امریکیوں کے ایک گروپ نے منگل کے روز صدرجو بائیڈن کو ایک خط بھیجا ہے۔اس میں ان پرزور دیا گیا ہے کہ وہ امریکی محکمہ خارجہ کی غیرملکی دہشت گرد تنظیموں (ایف ٹی او) کی فہرست سے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کا نام حذف نہ کریں۔

ایرانی پیشہ ورافراد کی ایڈہاک کمیٹی برائے ایران پالیسی نے اپنے خط میں کہا کہ پاسداران انقلاب کو ایف ٹی او کی فہرست سے ہٹانا ایرانیوں کی آزادی اوروقارکی جدوجہد میں ان کی امید کوصریح طورپرنظراندازکرنا ہوگا۔

امریکا ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی پرمذاکرات کے حصے کے طور پرپاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی بلیک لسٹ سے ہٹانے کے مطالبے پرغورکررہا ہےلیکن عوامی ردعمل اور ری پبلکن پارٹی اور بائیڈن کی اپنی سیاسی جماعت کی حالیہ تنقید نے اس اقدام کوروک دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکا کے اعلیٰ فوجی جنرل جنرل مارک میلےنے کہا تھا کہ وہ پاسداران انقلاب کی نامزدگی ختم کرنے کی حمایت نہیں کرتے۔انھوں نے اپنے اس یقین کا اظہارکیاتھا کہ ایران کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس ایک دہشت گرد گروہ ہے۔

اگرچہ جنرل میلے سے پاسداران انقلاب کے بارے میں پوچھا گیا لیکن انھوں نے کہا کہ القدس فورس ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا انھوں نے یہ امتیازجان بوجھ کر کیا ہے یا امریکا پاسداران انقلاب کو ہٹانے اور اس کے تحت القدس فورس کو دہشت گرد تنظیم نامزدکرنے پر غور کررہا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے اس کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ بائیڈن کا خیال ہے کہ القدس فورس ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ان کے بہ قول پاسداران انقلاب یا القدس فورس میں کوئی فرق نہیں۔ وہ خامنہ ای کے ایجنڈے کو فنڈ دینے، فروغ دینے اور اس پرعمل درآمد کرنے کے لیے ایک یونٹ کے طورپرکام کرتے ہیں۔ ایک پروفیسر اور خط کے اہم منتظمین میں سے ایک کاظم قزیرونیان نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی موجودہ نامزدگی جائز ہے اور اسے برقرار رہنا چاہیے۔

بائیڈن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب کور بیرون ملک دہشت گردی اور ایران کی سڑکوں پر لوگوں پرجبروتشدد کے لیے تہران کی آلہ کار ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ کوئی حادثاتی بات نہیں کہ ایرانی حکومت نے پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹانے کے مطالبے کوکسی بھی اورمسئلے سے بالاتر رکھا ہے۔ لاٹیس سیمی کنڈکٹر کارپوریشن کے ایک ممتاز انجینئر ڈاکٹرشاہین توتونچی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اس خوفناک گروہ کو دوبارہ ایرانی عوام اور خطے کے دیگر ممالک میں پھیلا دیا جائے گا۔

توتونچی نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ منگل کے خط پر دست خط کرنے والوں میں سے بہت سے لوگوں اور ان کے اہلِ خانہ کو پاسداران انقلاب کے مظالم کا براہ راست تجربہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات یقینی طور پر قابل ذکر ہے کہ پاسداران انقلاب نے اپنے بدنام زمانہ طرزعمل کوروکنے یا جمہوری اداروں کو آگے بڑھانے میں نیک نیتی کی کوششوں کا ذرا سا بھی اشارہ نہیں دیا ہے۔اس کے برعکس سپاہ پاسداران انقلاب اپنے گماشتہ بحری دہشت گردی یونٹ تشکیل دینے، دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کو بروئے کارلارہی ہےاور دنیا بھر میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں بڑا کردار ادا کر رہی ہے‘‘۔

502ایرانی نژاد امریکیوں کے گروپ نے کہا کہ ایرانی نژاد امریکی سائنس دانوں، ماہرین تعلیم اور پیشہ ورحضرات پاسداران انقلاب کی ظالم افواج کے تحت ایرانی عوام کے مصائب پرگہری تشویش کا شکار ہیں، ہم احترام کے ساتھ کہتے ہیں کہ پاسداران انقلاب امریکا کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل رہے اور اس کا نام اس فہرست سے خارج نہ کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں