امریکا کا یوکرینی فوجیوں کی تربیت کے لیےمشرق میں موجود نیٹوفورسز کےاستعمال پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے ایک سینیردفاعی عہدہ دار نے بتایا ہے کہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے مشرقی حصے میں تعینات امریکی فوجیوں کو یوکرینی فوجیوں کوتربیت دینے کے لیے استعمال کرنے پرغورکیا جارہاہے۔

اس عہدہ دار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربدھ کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ’’امریکا نے مشرقی جانب اپنی موجودگی کوکافی حدتک مضبوط کیا ہے اوراب ایک لاکھ سے زیادہ فوجی مستقل طور پر یورپ میں تعینات ہیں یا گردشی احکامات پرہیں۔ یقیناً یہ سب مشرقی جانب نہیں لیکن ہم نے ان مشرقی علاقوں کے ممالک میں اپنی صلاحیت میں بالکل اضافہ کیا ہے‘‘۔

اس عہدہ دار سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا امریکاکے پاس پولینڈ جیسے نیٹو کے رکن ممالک میں ایسے اہلکار موجود ہیں جو یوکرینیوں کو ان ہتھیاروں کے نظام کی تربیت دے سکتے ہیں جن سے وہ آگاہ نہیں ہوں گے؟

رواں ماہ کے اوائل میں یوکرینی فوجی واشنگٹن کی جانب سے مہیّا کردہ سوئچ بلیڈ ڈرونز پر پہلے سے طے شدہ تربیت حاصل کرنے کے لیے امریکا میں موجود تھے۔

امریکی عہدہ دار نے کہا کہ ’’وہ سوئچ بلیڈز کے استعمال پر اضافی تربیت کے اختیارات پرغورکر رہے ہیں اور یقینی طور پرہمارے پاس ایک اور آپشن یہ دستیاب ہوگا کہ یوکرین کے نزدیک موجود فوجیوں کواس تربیتی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ظاہر ہے کہ ان فوجیوں سے کام لیا جائے جو نیٹو کے مشرقی حصے میں تعینات ہیں اور یہ اب بھی ہمارے لیے ایک کھلا آپشن ہے‘‘۔

یوکرین کے خلاف روس کی جنگ بدھ کو49 ویں دن میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکی عہدہ دار نے کہا کہ روسی افواج کے یوکرینی دارالحکومت کیف کے نواح سے پیچھے ہٹنے کے باوجود اب وہ ڈونبس میں ایک نئے سرے سے جارحیت کے لیے دوبارہ جمع ہورہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ روسی فوجی شمال سے جنوب اورجنوب مشرق سے ڈونبس میں منتقل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ روس ہیلی کاپٹر،آرٹلری سسٹم اور مزید فوجی دستے اس محاذ پر بھیج رہا ہے۔

امریکاسے یوکرین تک ہتھیاروں کی فوری ترسیل کی رفتار کے بارے میں پوچھے جانے پرعہدہ دار نے کہا:’’اس معاملے میں وقت کوجوہری اہمیت حاصل ہے اور میں یاد دلاؤں گا کہ ہم غیرمعمولی رفتار سے ان (یوکرینیوں) کی طرف چیزیں ’دھکیل‘ رہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں