یمن جنگ: امریکی بحریہ کی نئی ٹاسک فورس بحیرہ احمر میں گشت کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی بحریہ نے یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے منسوب متعدد حملوں کے بعد بحیرہ احمر کی اہم تجارتی آبی گذرگاہ میں گشت کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ایک نئی ٹاسک فورس کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔

امریکی بحریہ کے مشرقِ اوسط میں موجود پانچویں بحری بیڑے کے نگران وائس ایڈمرل براڈ کوپرنے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں اس نئی ٹاسک فورس کا اعلان کیا ہے لیکن انھوں نے اپنے خطاب میں حوثیوں کا براہ راست نام لینے سے چاربارانکارکیا ہے۔

حوثیوں نے حالیہ مہینوں میں دھماکاخیزمواد سے لدی ڈرون کشتیاں اور بارودی سرنگیں بحیرہ احمرکے پانیوں میں چھوڑی ہیں۔یہ آبی گذرگاہ مصر کی نہرسویز سے تنگ آبنائے باب المندب تک آتی ہے اور برِّاعظم افریقا کو جزیرہ نما عرب سے جُدا کرتی ہیں۔

کوپرنے کہاکہ’’یہ خطہ حقیقی معنوں میں دنیا کوایندھن فراہم کرتا ہے۔ یہ علاقہ اتنا وسیع ہے کہ ہم اکیلے یہ کام نہیں کرسکتے۔لہٰذا جب ہم شراکت داری کریں گے توہم اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں گے‘‘۔

براڈ کوپر کے زیرنگرانی 34ممالک پر مشتمل تنظیم کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کمانڈ کام کررہی ہے۔اس کے تحت پہلے ہی تین ٹاسک فورسز ہیں جو خلیج عرب میں اوراس سے باہر بحری قزاقی اور سلامتی کے امور کی ذمےدار ہیں۔

نئی ٹاسک فورس اتوار کوکام شروع کردے گی اور اس میں یو ایس ایس ماؤنٹ وٹنی، ایک بلیو ریج کلاس ایمفیبیئس کمانڈ شپ بھی شامل ہوگی جواس سے قبل بحریہ کے افریقی اور یورپی چھٹے بحری بیڑے کا حصہ تھی۔

کوپرنے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ایک وقت میں دوسے آٹھ جہازوں کی ٹاسک فورس کوئلے،منشیات، ہتھیاروں اور آبی گذرگاہ میں انسانی اسمگلنگ کے دھندے میں ملوث لوگوں کو نشانہ بنائے گی۔ صومالیہ میں القاعدہ سے وابستہ الشباب تنظیم کوئلے کی اسمگلنگ کو اپنے حملوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

ایران سے وابستہ بحریہ ،ماہرین اورہتھیاروں کوخطے میں داخلے ہونے سے روکا گیا ہے۔ وہ اسی گذرگاہ سے ہوکر یمن میں حوثیوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ افریقا سے آنے والے تارکین وطن سعودی عرب اور دیگر جگہوں پرملازمتوں تک پہنچنے کے لیے جنگ زدہ یمن کی آبی حدود کو عبورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بحیرہ احمرمال بردار جہازوں اورعالمی توانائی کی ترسیل دونوں کے لیے ایک اہم گذرگاہ ہے جس سے علاقے میں کسی بھی قسم کی بارودی سرنگوں کی تنصیب کی سرگرمی نہ صرف سعودی عرب بلکہ باقی دنیا کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔سرنگیں پانی میں داخل ہو سکتی ہیں اور پھر انھیں دھاروں کے ذریعے لے جایا جا سکتا ہے، جو بحیرہ احمر میں موسم کے لحاظ سے تبدیل ہو سکتی ہیں۔

بحیرہ احمر پہلے بھی بارودی سرنگوں کے حملے کی زد میں آچکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک پینل نے بتایا کہ 1984 میں قریباً 19 جہازوں نے وہاں بارودی سرنگوں پر حملے کی اطلاع دی تھی اوران میں سے صرف ایک بحری جہاز کو برآمد اورغیرمسلح کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں