ایران جہاں بھی ضرورت محسوس ہوئی،اسرائیل کا کڑا مقابلہ کرے گا:کمانڈرالقدس فورس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی نے کہا ہے کہ جہاں بھی ضرورت محسوس ہو گی، اسرائیل کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ مارچ میں ایران نے عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل پر میزائل حملے میں ایک مبیّنہ ’’خفیہ اسرائیلی اڈے‘‘ کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے کا مقصد اسرائیل کے شام میں فضائی حملوں کا بدلہ چکانا تھا جن میں متعدد ایرانی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

ایران کی نیم سرکاری نورنیوزایجنسی کے مطابق کمانڈر قاآنی نے کہا کہ ’’جہاں بھی ہم صہیونی خطرے کی نشان دہی کریں گے، ہم ان کا سختی سے مقابلہ کریں گے، وہ اتنے چھوٹے ہیں کہ ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے‘‘۔

ایرانی کمانڈر نے’’صہیونی نظام‘‘کے خلاف لڑنے والے کسی بھی گروہ کی حمایت کا اعادہ کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ ’’اس نظام کی تباہی زور پکڑ رہی ہے‘‘۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک ایسے وقت میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہواہے جب ویانا میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

اسرائیل ویانا میں ایران کے ساتھ ان جوہری مذاکرات میں تو فریق نہیں لیکن وہ اس سے جوہری سمجھوتے کی بحالی کا مخالف ہے اور اس نے تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں مزید اثرورسوخ کی امید میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کی ہے۔اب وہ اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ امریکا اس کے تحفظات کوایران کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے میں ملحوظ رکھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں