فِچ نے نظرثانی کے بعد سعودی عرب کی آؤٹ لُک ’مستحکم‘ سے’مثبت‘ کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ریٹنگ ایجنسی فِچ نے جمعرات کو سعودی عرب کی’آؤٹ لُک‘ پر نظرثانی کی ہے اور ا س کو ’مستحکم‘سے ’مثبت‘ کردیا ہے۔اس نے اس ضمن میں تیل کی زیادہ آمدنی کے پیش نظرمملکت کی خودمختار بیلنس شیٹ میں بہتری کا حوالہ دیا ہے۔

وزیرخزانہ محمد الجدعان نے دسمبر میں اس توقع کا اظہارکیا تھا کہ سعودی عرب رواں سال قریباً ایک دہائی میں اپنا پہلا فاضل بجٹ پیش کرے گا۔انھوں نے بجٹ اخراجات میں سخت کنٹرول کو اس کا ایک سبب قرار دیا تھا جبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر اس کی آمدن بھی بڑھی ہے اور مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

سعودی عرب نے اپنے 450 ارب ڈالر کے خود مختار دولت فنڈ (پی آئی ایف) اوردیگر ریاستی اداروں پر زیادہ سے زیادہ انحصار کیا ہے تاکہ اخراجات میں اضافے کو ممکن بنایا جا سکے۔حکومت کے کھاتے نسبتاً صاف ہوگئے ہیں تاکہ وقتِ ضرورت قرض حاصل کی جاسکے۔

ایس اینڈ پی نے بھی گذشتہ ماہ سعودی عرب کی آؤٹ لک کومستحکم سے مثبت کردیا تھا۔

فچ نے کہا کہ حکومتی قرضے،جی ڈی پی اور خود مختار خالص غیرملکی اثاثے (ایس این ایف اے) ’اے متوسط‘ کے مقابلے میں کافی مضبوط رہیں گے، یہاں تک کہ 2022 کے بعد یہ اشاریے معمولی سے کمزور ہو جائیں گے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں کمی کارجحان ہوگا اور بتدریج بجٹ اصلاحات کو کم کرے گا۔

سعودی حکومت رواں سال اپنے قرضوں کے حجم میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، نئے وسائل زیادہ تربجٹ کی اعانت کے بجائے پختہ ہونے والے قرضوں کی دوبارہ مالی معاونت کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔

محمد الجدعان نے دسمبر میں کہا تھا:’’مجموعی طور پر اخراجات کی مالیت اس سے زیادہ ہے جو ہم بالعموم خرچ کرتے تھے، لیکن اس کی گنجائش بہت زیادہ ہے‘‘۔

گذشتہ سال تیل کی قیمتوں میں اضافے اور کووڈ-19 کی وَبا کے اثرات سے سنبھلنے کے بعد مملکت کو رواں سال جی ڈی پی میں 7.4 فی صد نمو کی توقع ہے۔ 2020ء میں اس کی جی ڈی پی کی شرح 4۰1 فی صد رہی تھی اور گذشتہ سال شرح نمو میں 3۰2 فی صد اضافہ ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں