روس اور یوکرین

یوکرین کے لیے 800 ملین ڈالر کا فوجی امدادی پیکج منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر کی انتظامیہ نے بدھ کے روز یوکرین کے لیے اضافی 800 ملین ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے جس کے بعد روسی حملے کے بعد سے اب تک امریکا کی کی طرف سے یوکرین کو دی جانے والی امداد 2.4 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔

بائیڈن نے اپنے یوکرائنی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ فون کال کے بعد ایک بیان میں کہا کہ اس پیکج میں توپ خانے کے نظام، توپ خانے کے گولے، بکتر بند اہلکار کیریئر اور ہیلی کاپٹر شامل ہوں گے۔

ایک اور پیش رفت میں روسی وزارت دفاع نے بدھ کو تصدیق کی کہ یوکرین کی تجارتی بندرگاہ ماریوپول اس کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

روسی دفاع نے کہا کہ "ماریوپول کی بندرگاہ پر بحری جہاز پر سوار تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔"

دوسری طرف یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بدھ کو ایسٹونیا کی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ روس یوکرین میں فاسفورس بم استعمال کر رہا ہے اور ماسکو پر شہریوں کو دہشت زدہ کرنے کے طریقے استعمال کرنے کا الزام لگایا۔

یوکرین کے صدر نے اپنے الفاظ کے ثبوت فراہم نہیں کیے اور رائیٹرز ان کے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے سے قاصر رہا۔

زیلنسکی نے کہا کہ روس پر یوکرینی باشندوں کی جبری ملک بدری کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیےذرائع تلاش کیے جائیں۔ ساتھ ہی روس کے خلاف پابندیاں جاری رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ ماسکو کو امن قبول کرانے کا واحد راستہ ہے۔

قبل ازیں یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اس بارے میں 100 فیصد یقینی نتائج پر پہنچنا ممکن نہیں ہے کہ آیا روسی افواج نے ماریوپول میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ محاصرے میں لیے گئے شہر میں مناسب تحقیقات کرنا ممکن نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں