روس اور یوکرین

نیٹو کی توسیع کے جواب میں ماسکو کی بحیرہ بالٹک میں جوہری ہتھیاروں کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیٹو کی توسیع پر پچھلی روسی تنقیدوں خاص طور پر سویڈن اور فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے امکان کے بعد ماسکو نے جمعرات کوایک بار پھر وارننگ دی ہے۔

روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدویدیف نے بحیرہ بالٹک میں اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی دھمکی دی ہے۔

جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ

خبر رساں ایجنسی ’رائیٹرز‘ کے مطابق یہاں تک کہ روس نے بالواسطہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے امکان کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ"جوہری ہتھیاروں سے پاک" بالٹک ریاستوں کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحیرہ بالٹک میں جوہری ہتھیاروں سے پاک ریاست کی بات نہیں ہو سکتی، کیونکہ توازن بحال ہونا ضروری ہے۔

تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ملک نے ابھی تک ایسے اقدامات یا فیصلے نہیں کیے ہیں۔

اپنی طرف سےکریملن نے روس کی بالٹک میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے امکان پر تبصرہ کرتے ہوئے مغربی سرحدوں پر روس کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے روسی وزارت دفاع کے منصوبے کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔

لتھوانیا کا ردعمل

اس کے برعکس لتھوانیا نے بالٹک میں فوجی اور جوہری موجودگی بڑھانے کے لیے روسی دھمکیوں کو مسترد کردیا۔ لتھوانیا کے ۔ وزیر اعظم ان گریڈا سائمنٹ نے کہا کہ یہ دھمکیاں نئی نہیں ہیں۔

وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ بالٹک خطے میں ماسکو کے پاس پہلے سے ہی جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

خیال رہے کہ بالٹک ریاستیں (ایسٹونیا، لٹویا اور لیتھوانیا) پہلے سوویت یونین کا حصہ تھیں اور 2004 میں نیٹو کی توسیع کے بعد نیٹو میں شامل ہونے والے آخری ممالک میں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں