القدس میں تشدد میں اضافے پر یورپی یونین کا اظہار تشویش، تحمل سے کام لینے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی، فرانس، اٹلی اور اسپین کی وزارت خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مشرقی یروشلم میں جمعہ کے روز ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی۔

ایک بیان میں یورپی ممالک کی وزرا خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ تشدد اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی سے بچا جا سکے۔

بیان میں یروشلم میں واقع مقدس مقامات کا احترام کرنے اور ان میں اردن کے کردار پر بھی زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے دو ریاستی حل پر مبنی امن کوششوں کی حمایت کا ذکر کیا۔

مشرقی یروشلم ۔ اے ایف پی
مشرقی یروشلم ۔ اے ایف پی

الاقصیٰ میں جھڑپیں

مسجد اقصیٰ کے اطراف میں جمعہ کو جھڑپوں کے بعد کشیدگی میں کمی آئی ہے۔ اسرائیلی فورسز کے مسجد پر دھاوا بولنے کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں اور نمازیوں کو وہاں سے نکل جانے کا کہا گیا۔

فلسطینی ہلال احمر کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں فلسطینی علاقوں میں 224 افراد زخمی ہوئے، جن میں 158 یروشلم کے تھے۔

مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر ٹور وینس لینڈ نے صورتحال کی خرابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے ٹیمپل ماؤنٹ پر اشتعال انگیزی کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایک بیان میں انہوں نے تمام فریقوں کے سیاسی اور مذہبی رہ نماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کو پرسکون کرنے میں مدد کریں۔

قابل ذکر ہے کہ یہ اضافہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں کمک بھیجنے اور اس کے ساتھ دیوار فاصل کو مضبوط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں