روس اور یوکرین

یوکرین کے حوالے سے اسرائیلی بیان پر روس "ناخوش"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل میں روسی سفیر اناطولی ویکتروف نے اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس بیان پر "عدم اطمینان" کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا کہ ماسکو نے یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ روسی سفیر کے مطابق ان دعوؤں کا کوئی "ثبوت" نہیں ہے۔

جمعرات کے روز ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ویکتروف نے مزید کہا کہ "ہم جو کچھ سن رہے ہیں اس پر خوش نہیں ہیں ، ہم زیادہ منصفانہ موقف کا مطالبہ کرتے ہیں"۔

روسی سفیر نے اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپڈ کے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ "اس طرح کے الزامات کو شواہد کی ضرورت ہوتی ہے اور ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ہے۔"

ویکتروف کے مطابق روس نے بوچا میں بے قصور شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، یوکرینیوں کی جانب سے منظم اس واقعے میں روسی فوج ملوث نہیں ہے۔

روسی سفیر نے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات پر زور دیتے ہوئے عبرانی ریاست کو "دوست" ملک قرار دیا۔ بالخصوص جب کہ اسرائیل نے روس پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلق کو برقرار رکھنے میں جانبین کا مفاد ہے۔

اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔ رواں سال مارچ میں اسرائیلی میڈیا نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جانب سے روس اور یوکرین کے بیچ ثالثی کی کوششیں ثمر آور ثابت ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

روس اور اسرائیل متعدد معاملات میں ہم آہنگ موقف رکھتے ہیں۔ ان میں سرفہرست شام کا معاملہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں