روس اور یوکرین

روسی صدرپوتین کی’اپنی جنگی منطق‘ ہے،ان کاخیال ہے، وہ جیت رہے ہیں: چانسلرآسٹریا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریا کے چانسلرکارل نیہیمرنے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادی میرپوتین کی اپنی جنگی منطق ہے اوران کا خیال ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف شروع کی گئی جنگ جیت رہے ہیں۔

24فروری کو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد نیہیمر پہلے مغربی رہنما تھے جنھوں نے پوتین کے ساتھ بالمشافہہ ملاقات کی تھی۔

چانسلر نے کہا کہ انھوں نے خود یوکرین کا دورہ کرنے اور ’’جنگی جرائم‘‘کے شواہد براہ راست دیکھنے کے بعد اس ملک میں ہونے والے روسی مظالم کے بارے میں صدر پوتین کا سامنا کیا اور ان سے بات چیت کی تھی۔

این بی سی پر اتوارکونشر ہونے والے ایک انٹرویو میں نیہیمر نے بتایا کہ ’’یہ دوستانہ گفتگو نہیں تھی بلکہ یہ ایک کھلی اور سخت گفتگو تھی اور میں نے انھیں(صدرپوتین کو) بتایا کہ میں نے وہاں (یوکرین میں )کیا دیکھا ہے،میں نے جنگی جرائم دیکھے۔ میں نے روسی فوج کا بڑے پیمانے پر نقصان دیکھا تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ ان کی اپنی ایک جنگی منطق ہے۔ان کے خیال میں روسی فیڈریشن کی سلامتی کی ضمانت کے لیے یہ جنگ ضروری ہے۔انھیں عالمی برادری پر بھروسا نہیں۔ وہ ڈونبس خطے میں نسل کشی کے لیے یوکرینیوں کو موردالزام ٹھہراتے ہیں‘‘۔

نیہیمر کا صدرپوتین کے بارے میں کہنا تھا کہ’’اب وہ اپنی دنیا میں مگن ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ جانتے ہیں کہ یوکرین میں کیا ہورہا ہے۔میرے خیال میں یہ ضروری ہے۔آپ جانتے ہیں کہ ہماری بات چیت کے اختتام پرانھوں نے جرمن زبان میں مجھے بتایا کہ یہ بہتر ہے کہ جنگ کسی تاخیرکے بجائے جلد ختم ہو جائے۔ تومجھے لگتا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اب کیا ہورہا ہےاور ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہوگا‘‘۔

انھوں نے مزیدکہا کہ دوسرے لفظوں میں ہمیں ان کی آنکھوں میں دیکھنا ہوگا اور ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہوگا جو ہم یوکرین میں دیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں