سعودی عرب نے قابل تجدید توانائی کے میدان میں غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکا کے ایک سابق سفارت کار ڈیوڈ رینڈل جو 15 سال سے زائد عرصے تک سعودی عرب میں سابق امریکی سفارتی مشن کی میزبانی کرتے رہے ہیں اس ہفتےالعربیہ پوڈ کاسٹ کے پروگرام ’البعد الآخر‘ میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں ریاض اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کی تاریخ کے بارے میں بات کی۔ اس کے علاوہ وہ اپنے انٹروں میں بتائیں گے کہ کس طرح تیل نے ملک کی ترقی کی رفتار تیز کی۔ انہوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی پٹرولیم کمپنی ’آرامکو‘ کےقیام اور سعودی عرب کی جانب سے تنازعات کے حل اور عالمی استحکام پر بھی بات چیت کی۔

رینڈل نے کہا کہ دنیا کو اب بھی مستقبل کے دہائیوں کے لیے سعودی تیل کی ضرورت ہے. ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے تیل نے بھارت اور چین جیسے ممالک کی دیو قامت معیشتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار کیا۔

کتاب ’وژن یا سراب‘ کے مصنف سابق امریکی سفارتکار نے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے لیے سعودی پروگراموں پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قابل تجدید توانائی کی پالیسی مستقبل میں مزید تیل برآمد کرنے کے قابل بنائے گی۔ انہوں نےوژن 2030 کے توازن کے قیام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع پر بھی بات کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں