روس اور یوکرین

ماریوپول میں یوکرینی افواج ’آخری دم‘ تک لڑیں گی:وزیراعظم شمیہل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یوکرین کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ تزیراتی اہمیت کے حامل بندرگاہ شہر ماریوپول کا سقوط نہیں ہوا ہے اور روسی حملے سے شہر کا دفاع کرنے والی افواج ’آخردم تک لڑیں گی‘۔

وزیراعظم نے ڈینس شمیہل ایک آہنی قلعہ نما عمارت میں چھپے ہوئے جنگجوؤں کے ہتھیار ڈالنے کے الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد اے بی سی کے پروگرام’’اس ہفتے‘‘ میں گفتگو کر رہے تھے۔روسی فوج نے ان یوکرینی جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم دیا تھا لیکن اس کی مدت گذرگئی ہے۔

یوکرینی وزیراعظم نے کہا کہ شہر کا ابھی تک سقوط نہیں ہوا ہے۔اب بھی ہمارے فوجی وہاں موجودہیں اور وہ آخر تک لڑیں گے‘‘۔

روسی فوج کے محاصرے کا شکار یوکرینی افواج کو درپیش مایوس کن صورت حال کی علامت کے طور پر صدر ولودی میرزیلنسکی نے ہفتے کے روز کہا کہ اگر وہ مارے گئے تو ماسکو کے ساتھ امن مذاکرات ختم کردیے جائیں گے۔

روسی صدرولادیمیر پوتین پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ مذاکرات ’’مردہ انجام‘‘پرہیں۔شمیہل نےکہا کہ ’’یوکرین اگر ممکن ہو تو" سفارتی حل چاہتا ہے، لیکن اگر روسی مذاکرات پسند نہیں کریں گے تو ہم آخر تک لڑیں گے،ہم بالکل ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ہم اپنے ملک، اپنے خاندانوں، اپنی سرزمین کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم آخر تک لڑیں گے‘‘۔

ان اطلاعات کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ صدرپوتین کا خیال ہے کہ روس جنگ جیت رہا ہے، شمیہل نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ اگرچہ کئی شہر محاصرے میں ہیں لیکن جنوب میں خارسن کو چھوڑ کر ایک بھی شہرنہیں گرا ہے۔ 900سے زیادہ قصبوں اور شہروں کو آزاد کرالیا گیا ہے۔تاہم ماریوپول پر قبضہ یوکرین کے لیے حکمت عملی اور علامتی طور پر شدید دھچکا ثابت ہوگا کیونکہ اس سے ماسکو کو روس کے زیر قبضہ جزیرہ نما کریمیا تک زمینی راستہ کھولنے میں مدد ملے گی۔

شمیہل نے مغربی ممالک سے ایک بار پھر درخواست کی کہ وہ یوکرینی افواج کو تقویت دینے کے لیے مزید گولہ بارود اور ہتھیار بھیجیں۔انھوں نے مزید مالی مدد کی درخواست بھی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک ایک ’’بہت بڑی انسانی تباہی‘‘ سے دوچار ہے اور اسے مستقبل میں بحالی اورمعیشت کو بچانے کے لیے مزید مدد کی ضرورت ہے۔شمیہل نے کہا کہ اب ہماری معیشت کا صرف آدھا حصہ کام کر رہا ہے اور یوکرین کو 5 ارب ڈالر کے بھاری ماہانہ بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یوکرینی حکام عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے موسم بہار کے اجلاس میں ملکی ضروریات کی تفصیل پیش کرنے کے لیے آیندہ ہفتے واشنگٹن میں ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں