روس اور یوکرین

محصورماریوپول کاسقوط روس کے ساتھ بات چیت میں ’سرخ لکیر‘ہوسکتا ہے: یوکرینی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے وزیرخارجہ دمیتروکلیبا نے محصور بندرگاہ شہر ماریوپول کی صورت حال کو روسیوں کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے ’’سرخ لکیر‘‘قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وزارت خارجہ کی سطح پر کیف اور ماسکو کے درمیان حالیہ سفارتی رابطے نہیں ہوئے ہیں۔

کلیبا نے اتوار کوسی بی ایس نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’بوچا (میں قتلِ عام) کے بعد روسیوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا خاص طور پر مشکل ہو گیا تھا لیکن جیسا کہ میرے صدر نے ذکر کیا،ماریوپول کا سقوط ایک سرخ لکیر ہو سکتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ماریوپول کی صورت حال فوجی لحاظ سے بھی سنگین ہے اور دل دہلا دینے والی بھی۔ شہر اب موجود نہیں ہے۔یوکرینی فوج کے باقی ماندہ دستوں اور عام شہریوں کے بڑے گروپ کو بنیادی طور پر روسی افواج نے گھیرے میں لے رکھاہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ماریوپول میں روسی فوج کے طرزِعمل سے ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے کسی بھی قیمت پراس شہر کو زمین بوس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روس نے اتوار کے روز ماریوپول میں موجود یوکرینی فوجیوں کو ہتھیارڈالنے کا الٹی میٹم دیا اور کہاکہ اگروہ یوکرین کے سب سے مشکل متاثرہ شہروں میں سے ایک ماریوپول میں ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معافی کی پیش کش کی جاسکتی ہے۔ماسکو کے ایک عہدہ دار نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی افواج کا شہر پرقریباً مکمل کنٹرول ہوچکاہے۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ماریوپول میں آخری یوکرینی فوجی دستوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو روس کے ساتھ مذاکرات بھی ختم کردیے جائیں گے۔

انھوں نے سرکاری خبر رساں ادارے یوکرینفارم کو بتایا کہ ہمارے فوجیوں، ہمارے آدمیوں (ماریوپول میں) کے خاتمے سے مذاکرات منقطع کردیے جائیں گے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ آنے والے ہفتوں میں روسی کیا کرسکتے ہیں،وزیرخارجہ کلیبا نے کہا:’’مشرقی یوکرین میں، ڈونبس میں، یوکرین کے اس حصے میں روس کی بڑے پیمانے پر جارحیت میں اضافہ ہوسکتا ہے اورجیسا کہ میں نے کہا روسی افواج ماریوپول پر کسی بھی قیمت پر قبضے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہی ہیں۔ یہ میری توقعات ہیں اور ان کے یوکرین بھر میں دارالحکومت کیف اوردوسرے شہروں پر میزائل حملے جاری رہیں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں