امریکا کے دباؤ پر اسرائیلی "تعمیل" کے خلاف چینی کمپنیوں کا عدالت میں مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چینی اسرائیلی کمپنیوں کے ایک گروپ نے ملک کی ایک عدالت میں اسرائیلی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ مقدمہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اُس پیش کش کو مسترد کرنے پر دائر کیا گیا ہے جو ان کمپنیوں نے تل ابیب میں ایک لائٹ ٹرین کے منصوبے کی تعمیر کے سلسلے میں داخل کی تھی۔ اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" کے مطابق مذکورہ کمپنیوں کا دعوی ہے کہ اس پیش کش کو غیر قانونی امریکی دباؤ کی بنا پر مسترد کیا گیا ہے۔

رواں سال جنوری میں اسرائیلی حکومت کے ایک اعلان کے مطابق ٹرین منصوبے کی مختلف اقسام کے ٹریک کے منصوبے فرانسیسی ، اسرائیلی اور ہسپانوی کمپنیوں کو دے دیے گئے۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق تل ابیب میں لائٹ ٹرین کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درامد کی ذمے دار کمپنی NTA Metropolitan Mass Transit System Ltd ہے۔ اس کمپنی کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے فنڈنگ فراہم کی جاتی ہے۔ مذکورہ کمپنی کا اعلان اسرائیلی انفرا اسٹرکچر سے متعلق نفوذ کے حوالے سے کئی برس سے جاری معرکہ آرائی میں واشنگٹن کی چین پر ایک بڑی فتح ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیاؤں کی جانب سے تل ابیب پر شدید دباؤ ڈالا گیا تا کہ اسرائیل میں انفرا اسٹرکچر کے اہم منصوبوں بالخصوص ٹیلی کمیونی کیشن اور ٹکنالوجی کے شعبے میں تعمیراتی منصوبوں کا کام چینی کمپنیوں کو نہ دیا جائے۔

امریکا کو اندیشہ ہے کہ چین، اسرائیل میں انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کو امریکی مفادات کے خلاف جاسوسی کے مقصد سے استعمال میں لا سکتا ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک مرحلے پر دھمکی دی تھی کہ امریکی بحریہ اسرائیل میں حیفا کی نئی بندرگاہ کا استعمال ختم کر دے گی۔ اس کی وجہ بندرگاہ کے ترقیاتی کاموں اور اس کو چلانے میں چین کی شرکت تھی۔

یہ بات خارج از گمان ہے کہ کوئی بھی اسرائیلی عدالت حکومت کے خصوصی فیصلے کو منسوخ کر دے۔ بالخصوص وہ فیصلہ جو داخلی انٹیلی جنس ادارے شاباک کی جانب سے جاری سیکورٹی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہو۔

البتہ ممکن ہے کہ عدالت اس مقدمے کے سلسلے میں سماعتوں کا انعقاد کرے اور اسرائیلی حکومت سے مزید تفصیلات طلب کرے کہ آیا چین اس شعبے میں خطرہ بن رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں