ملیے نفسیاتی صحت کے میدان کے سب سے بڑے سائنسی تحقیقی پروگرام میں شامل سعودی ریسرچر سے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سائنسی تحقیق کے میدان میں امتیازی مقام حاصل کرنے کے بعد وزارت صحت کے انڈر سیکریٹری ڈاکٹر عبداللہ مفرح عسیری نے سعودی محققہ ڈاکٹر مریم العیسیٰ کو اس شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی تحقیق میں حصہ لینے پر مبارکباد دی۔ ڈاکٹر مریم نے نفسیاتی جینیات خاص طور پر شیزوفرینیا کے میدان میں ہونے والے ایک سائنسی تحقیقی پروگرام میں حصہ لیا۔ کسی عرب خاتون سائنسدان کا اس میدان میں شامل ہونا اعزاز ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مریم العیسیٰ نے انسانی گروہوں کے مطالعہ کی اہمیت پر زور دیا تاکہ بیماری کے لیے حساسیت اور اس کے امراض پر بالعموم اور دماغی بیماریوں پر خاص طور پر اثرات کی نشاندہی کی جا سکے۔

العیسیٰ نے بتایا کہ انہوں نے پیچیدہ طبی جینیات کے شعبے میں اسکاٹ لینڈ سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور وہاں سے نفسیاتی جینیات پر تحقیق شروع کی جہاں اس نے "Digorge syndrome" اور اس کی نفسیات سے وابستگی پر ماسٹر کی تحقیق کا انتخاب کیا۔ 2016 میں برطانیہ میں "یونیورسٹی کالج لندن" سے پیچیدہ جینیات کے شعبےمیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی۔امریکا میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (MIT) سے جینیاتی انجینئرنگ اور جینیاتی انفارمیٹکس میں فیلوشپ حاصل کی۔ مملکت میں واپس آنےکے بعد الفیصل یونیورسٹی میں جینیٹکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طورپر کالج آف میڈیسن اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی اسسٹنٹ پروفیسر اور اختراعی مشیر کے طور پر کام شروع کیا۔

العیسیٰ نے اپنی سائنسی اور طبی تحقیق پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کی تحقیق نفسیاتی امراض پر مرکوز ہے۔ موجودہ علاج پرانے ہیں اور اکثر ایک مریض سے دوسرے مریض میں مختلف علامات کی وجہ سے مؤثر نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر فرد کا ایک مخصوص جینیاتی میک اپ ہوتا ہے جو بیماری کی تشکیل میں معاون ہوتا اور دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اس بیماری سے جڑے تمام حیاتیاتی راستے دریافت نہیں ہوسکے ہیں کیونکہ موجودہ علاج تمام دماغی مریضوں کا علاج نہیں کرتے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تحقیق عالمی تھی اور یہ ایک نئی دریافت ہے، جس کے دوران شیزوفرینیا میں مبتلا 77,000 افراد کے لیے جینیاتی سروے کیا گیا۔ نیوران سے متعلق متغیرات کا ایک گروپ نکالا گیا۔ اس بات کا تعین نہیں کیا گیا کہ بیماری اس کی تشکیل میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔ تحقیق کے ذریعے نیوران میں ایک خرابی کا پتہ چلا۔

العیسیٰ نے بتایا کہ وہ ایک مربوط اور باہمی تعاون پر مبنی تحقیقی ٹیم کے ساتھ ایک ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں جس نے یہ تحقیق ایک گروپ ورک کے ذریعے کی ہے اور انفرادی کام اس سطح تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہ مطالعہ شیزوفرینیا میں دنیا میں سب سے بڑا کام سمجھا جاتا ہے۔ یہ پہلی تحقیق نہیں۔ دیگر بین الاقوامی تحقیق اور تعاون بھی دریافت کیے گئے ہیں اور بائی پولر، الزائمر اور پارکنسنز جیسی بیماریوں کے ساتھ جینیاتی وابستگی دریافت کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں یہ مطالعہ دنیا بھر کے اداروں کے ایک گروپ کے تعاون سے کیا گیا تھا اور بدقسمتی سے مملکت کی طرف سے کوئی ادارہ جاتی شرکت نہیں ہے۔ اس طرح کی تحقیق کے لیے تعاون ناکافی ہے۔ انہوں نے دماغی امراض کے علاج کے جدید طریقوں پر مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مملکت میں اس شعبے میں تحقیقی مطالعات کی موجودگی کی اہمیت پر زور دیا۔ دماغی بیماری ریاست اور خاندان پر ایک بہت بڑا بوجھ بنتی ہے جس کی وجہ بیماریوں میں مبتلا افراد اور اسپتالوں میں نفسیاتی مریض کے قیام کی مدت بڑھ جاتی ہے۔

اور مقامی طور پر میں نے مملکت کے اندر نیشنل گارڈ میں ایک تحقیقی ٹیم کے ساتھ کام کیا تاکہ سعودی عرب میں سب سے زیادہ رائج متغیرات کا مطالعہ کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں