افغانستان:مزارشریف اورقندوزشہر میں بم دھماکوں میں 14 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے دوشمالی شہروں میں جمعرات کوبم دھماکوں میں 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں مزارشریف کی ایک مسجد میں دھماکے میں 10 افراد مارے گئے ہیں۔

سخت گیرجنگجو داعش نےشمالی شہر مزارشریف میں ہونے والے بم حملے کی ذمے داری قبول کی۔صوبہ بلخ کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ نورانی نے اے ایف پی کو بتایا کہ بم دھماکے میں 25 افرادہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ایک پولیس عہدہ دار نے بتایا کہ 10 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔

شمالی شہرقندوزمیں بم دھماکے میں چارافراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوگئے ہیں۔صوبائی پولیس کے ترجمان عبیداللہ عبیدی نے بتایا کہ طالبان کے فوجی یونٹ کی گاڑی کوایک سائیکل بم سے نشانہ بنایا گیا ہے۔اس بس میں مینیک سوار تھے۔

صوبائی محکمہ صحت کے ایک عہدہ دار نجیب اللہ ساحل نے بتایا کہ اسپتالوں میں دھماکے میں مہلوکین کی لاشیں اور زخمیوں کو منقتل کیا گیا ہےاور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔البتہ انھوں نے دھماکے کے مقام یا وجوہ کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔

اگست میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدارآنے کے بعد افغانستان میں بم دھماکوں میں مجموعی طور پرکمی آئی ہے لیکن داعش نے متعدد بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

طالبان نے گذشتہ سال اگست میں اقتدارپرقابض ہونے کے بعد سے مشرقی صوبہ ننگرہار میں داعش کے مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف متعدد چھاپامار کارروائیاں کی ہیں۔طالبان حکام کا اصرار ہے کہ انھوں نے داعش کو شکست دے دی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو گروپ افغانستان کے امن وسلامتی کے لیے بدستورایک اہم چیلنج ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں