عالمی اقتصادی بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون درکار ہے:سعودی وزیرخزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے وزیرخزانہ محمدالجدعان نے جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بنکوں کے گورنروں کے دوسرے اجلاس میں عالمی اقتصادی بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون کے فروغ کی ضرورت پرزور دیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق محمد الجدعان نے ممالک اور ضرورت مند لوگوں کی مسلسل مدد کرنے میں مملکت کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے حالیہ مہینوں میں یوکرینی پناہ گزینوں کو ایک کروڑ ڈالرمالیت کی فوری طبی اور پناہ گاہیں مہیا کرنے کے لیے امداد دی ہے۔

انڈونیشیا کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں سعودی سینٹرل بینک (ساما) کے گورنرڈاکٹرفہد المبارک نے بھی شرکت کی اور یہ اجلاس بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے موسم بہارکے اجلاسوں کے موقع پرمنعقد ہوا ہے۔

اس میں عالمی اقتصادی نقطہ نظر میں تبدیلیوں سے متعلق اہم موضوعات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ان میں یوکرین میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اور مالیاتی مضمرات کے علاوہ مستقبل میں کروناوائرس کی وَبا کی روک تھام، تیاری اور ردعمل کے طریق کار ایسے موضوعات شامل تھے۔

سعودی مرکزی بینک نے مختلف قومی ترجیحات اورحالات کے لیے ضروری لچک فراہم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور سرکلرکاربن معاشی حکمت عملی کوبروئے کار لاتے ہوئے سابقہ کوششوں کوآگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جس کی 2020 میں جی 20 کے الریاض میں منعقدہ سربراہ اجلاس کے موقع پرتوثیق کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا نے دسمبر2021 میں اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقدہ گروپ کے سربراہ اجلاس کے اختتام پرجی 20 کی صدارت سنبھالی تھی۔

انڈونیشیا نے گروپ کی صدارت میں اپنی پانچ ترجیحات پیش کی ہیں۔ان میں ماحولیات اور شراکت داری کو فعال بنانا، پیداواری صلاحیت کو فروغ دینا، پائیداراورجامع ترقی کویقینی بنانا، لچک اور استحکام میں اضافہ اور مضبوط اجتماعی عالمی قیادت شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں