روس اور یوکرین

روس کا یوکرین میں ایک دن میں 120 عسکریت پسند ہلاک اور 14 فوجی مراکز تباہ کرنے کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جمعرات کو روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین میں اس کے حملوں میں 24 گھنٹے کے دوران 120 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ خارکیف میں العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق یوکرین کی افواج نے روسی بمبار ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو روسی دفاع نے "چرکاسکو" اور "الیگزینڈرواکا" علاقوں میں یوکرائنی افواج کے 14 مقامات کو تباہ کرنے کی تصدیق کی۔

ایک فوری پیش رفت میں چیچنیا کے صدررمضان قدیروف نے جمعرات کو اعلان کیا کہ یوکرین میں ان کی افواج نے "ماریوپول میں ازوسٹال پلانٹ کی انتظامی عمارت کا کنٹرول سنبھالنے" میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

اس سے قبل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی "منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے" حالانکہ صدر ولادیمیر پوتین نے اپنی افواج کو حکم دیا تھا کہ وہ بندرگاہی شہر ماریوپول میں یوکرائنی افواج کے آخری گڑھ ازوسٹال اسٹیل پلانٹ پر حملہ نہ کریں۔

پیسکوف نے صحافیوں کو وضاحت کی کہ یوکرین کی افواج کے لیے ایک موقع تھا اور ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور کھلی ہوئی راہداریوں سے باہر نکل جائیں۔

اس سوال پر کہ آیا سٹیل پلانٹ پر حملہ نہ کرنے کا حکم منصوبوں کی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک الگ سہولت ہے، جہاں یوکرینی قوم پرستوں کے باقی ماندہ گروپ کو مکمل طور پر گھیر لیا گیا ہے۔

ازوسٹال اسٹیل پلانٹ پر حملہ کرنے کا منصوبہ

جمعرات کو روسی صدر ولادیمیر پوتین نے روسی فوج کو حکم دیا کہ وہ یوکرین کے بندرگاہی شہر ماریوپول میں ازوسٹال سٹیل پلانٹ پر حملہ کرنے کے منصوبے کو منسوخ کر دے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شہر کی پرامن ناکہ بندی جاری رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کو گھیرے میں لینا ضروری ہے۔ محاصرہ ایسا ہو کہ ایک مکھی بھی نہ گذرنے پائے۔

روسی صدر نے یوکرین کے شہر ماریوپول میں آپریشن کی کامیابی پر وزیر دفاع سرجیو شوئیگو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ماریوپول کا کنٹرول کامیابی سے انجام دیا گیا ہے اور ماریوپول میں صنعتی زون پر دھاوا بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔

پوتین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روس اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ پریشان نہ ہوں اور یوکرین کی افواج کو ازوسٹال سہولت چھوڑنے پر احترام کے ساتھ پیش آئے۔

اپنی طرف سے روسی وزیر دفاع نے پوتین کو بتایا کہ ماریوپول میں حالات پرسکون ہیں اور شہریوں کی واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ماریوپول پر روسی افواج کا مکمل کنٹرول ہے سوائے ازوسٹال فیکٹری کے جہاں اب بھی یوکرینی جنگجو موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماریوپول میں یوکرین کی مسلح تنظیموں کے ارکان کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جو روسی علاقوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

شوئیگو نے بتایا کہ ماریوپول کے گھیراؤ کے وقت یوکرینی افواج اور غیر ملکی کرائے کے فوجیوں کی تعداد تقریباً 8,100 تھی۔ شہر کی آزادی کے دوران ان میں سے 4,000 سے زیادہ کا خاتمہ کیا گیا، 1,478 نے ہتھیار ڈال دیے جب کہ بقیہ گروپ 2,000 سے زیادہ عسکریت پسندوں کو ازسٹال انڈرسٹریل علاقے میں گھیر لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں