یروشلم میں القیامہ چرچ میں عیسائی زائرین کے داخلے پراسرائیلی پابندی، فلسطین کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی ایوان صدر نے عیسائیوں کو چرچ آف ہولی سیپلچر [چرچ القیامہ] میں زائرین کو داخلے سے روکنے کے اسرائیل کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

جمعرات کو فلسطینی ایوان صدر کے سرکاری ترجمان نبیل ابو رودینہ نے کلیسائے مقدسہ میں عیسائی عبادت گزاروں کے داخلے پر پابندیاں عائد کرنے کے اسرائیلی فیصلے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام القدس [یروشلم] کے مقدس مقامات پر اسرائیلی پابندیوں کے اقدامات کا حصہ ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے ان کے حوالے سے کہا کہ اسرائیلی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کہ بہ قول یہودی انتہا پسند مسجد اقصیٰ میں مسلسل دراندازی کرتے ہیں اور اسرائیلی حکومت انتہا پسندوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔

فلسطینی عہدیدار نے اس فیصلے کو "آسمانی مذاہب اور ان کے مقدسات کے لیے ایک صریح اور خطرناک چیلنج" قرار دیا۔

ابو رودینہ نے مزید کہا کہ یہ اقدام "تمام انسانی اور مذہبی اقدار کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی ہے۔"

اس سال عیسائیوں کی تعطیلات تین دہائیوں سے زیادہ عرصے میں پہلی بار یہودیوں کے پاس اوور اور رمضان کے ساتھ مل رہی ہیں۔

قبل ازیں العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی تھی کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ نئی جھڑپوں میں 8 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے صحن میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان کئی دنوں سے کشیدگی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں