ترکی کی فضائی حدود روس سے فوجیوں کوشام لے جانے والے طیاروں کے لیے بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی نے ماسکو کے ساتھ مذاکرات کے بعد اپنی فضائی حدود روس سے شام جانے والے فوجی اورسویلین طیاروں کے لیے بند کردی ہیں۔

ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی خبرنے ہفتے کے روز وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو کے حوالے سے شام جانے والے روسی فوجیوں کے لیے فضائی حدود کی بندش کی اطلاع دی ہے۔

ترک وزیرخارجہ یوراگوئے کے دورے پر جاتے ہوئے اپنے ہمراہ طیارے میں سوارصحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے بتایا کہ ہم نے روس کے فوجی طیاروں اور یہاں تک کہ شام میں فوجیوں کو لے جانے والے سویلین طیاروں کے لیے بھی اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اپریل تک تین ماہ کی مدت کے لیے روسی طیاروں کو ترکی کی فضائی حدود سے گذرنے کی اجازت دی گئی تھی اورکہا گیا تھا کہ اس کے بعدپروازیں روک دی جائیں گی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ روس اور یوکرین کے درمیان بحران کے خاتمے کے لیے بات چیت جاری ہے اور فریقین مشترکہ اعلامیے کے مسودے کوحتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

شاوش اوغلو نے کا کہنا تھا کہ اگرمذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے اور یہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو روسی صدر ولادی میرپوتین اور یوکرینی صدر ولودی میرزیلنسکی ترکی جنگ بندی معاہدے پر دست خط کے لیے آسکتے ہیں۔انھوں نے مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ترکی میں سربراہ ملاقات میں شرکت سے اتفاق کیا تھا۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹوکے رکن ترکی کے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اوراس نے ان کے درمیان جنگ میں ثالثی کی کوشش کی ہے اور دونوں متحارب ملکوں کے درمیان بحران کے تصفیے کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں