روس اور یوکرین

جرمنی کو اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالے بغیر یوکرین کی مددکرنی چاہیے: وزیرخزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن وزیرخزانہ کرسچئن لنڈنر نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو روس کے خلاف جنگ جیتنے میں یوکرین کی مدد کے لیے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے لیکن اپنی سلامتی اور نیٹو کی دفاعی صلاحیت کو خطرے میں ڈالے بغیراسے ایسی کوئی امداد کرنی چاہیے۔

برلن میں ہفتے کے روز ایک پارٹی کانفرنس میں تقریر میں لنڈنر نے کہا کہ ہمیں یوکرین کوجنگ جیتنے کے لیے ہر ممکن مدد مہیا کرنی چاہیے لیکن اخلاقی ذمے داری کی حد ہماری اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور نیٹوکی دفاعی صلاحیت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

لیکن انھوں نے کہا کہ ہمیں یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر عملی اور فوری طور پر ممکنہ اقدام کرناچاہیے۔لنڈنر نے کہا کہ وہ خود یوکرین کو بھاری ہتھیاروں کی کمک بھیجنے کے حق میں ہیں لیکن جرمنی کو جنگ میں فریق نہیں بننا چاہیے جبکہ یوکرین کو فوجی حمایت درکارہے اور فتح حاصل کرنے کے لیے اسے بھاری ہتھیاروں کی بھی ضرورت ہے۔

انھوں نے اس تنقید کو مستردکردیا جس میں چانسلراولف شلز کو یوکرین کو ٹینکوں اور ہوإٹزرتوپوں جیسے بھاری ہتھیارمہیا کرنے میں حکومت کی واضح ہچکچاہٹ پرنکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

لنڈنر نے کہا کہ اولف شلز ایک ذمے دار رہ نما ہیں جو چیزوں کو احتیاط سے پرکھتے ہیں اور اس بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔

ایک روز قبل جب چانسلرشلز سے یوکرین کو بھاری ہتھیاروں کی ترسیل میں جرمنی کی ناکامی کے بارے میں پوچھا گیا توانھوں نے کہا کہ نیٹو کو روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم سے گریزکرناچاہیے کیونکہ ایسا کوئی مسلح تصادم تیسری جنگ عظیم کا باعث بن سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں