خوفناک مقام "جنوں کے پارک" میں سعودی نوجوان نے کیا دیکھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور دمام روڈ کے درمیان صحرا میں ایک بہت بڑا پہیا نما جھولا نصب ہے۔ لوگوں میں اس کی پہچان ایک خوفناک مقام کے طور پر کی جاتی ہے۔ مگر یہ ایک تفریحی پارک ہے جس کا نام لوگوں نے ’جنات پارک‘ یا بھوت پارک رکھا ہواہے۔

بعض لوگ اس پارک کی سیرکو مشکل مہم جوئی سے تعبیر کرتے ہیں۔ فوٹو گرافر عبدالعزیز الزامل بھی انہی میں سے ایک ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الزامل نے بتایا کہ میں نے اپنا سفر دارالحکومت الریاض سے شروع کیا۔ گردو غبار کی وجہ سےگاڑی کی رفتار آہستہ تھی۔ یہ پارک جسےلوگ بھوت پارک بھی کہتے ہیں ریاض سے مشرقی سمت میں ہے۔ میں اس مہم جوئی میں حصہ لینےکے پرجوش تھا۔

سعودی نوجوان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ بات چیت کے دوران اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس پارک کے پارک کے بارے میں ایک عرصے سے متجسس تھا۔ میں جب پارک میں پہنچا تو وہاں نصب جھولے کے گرد اپنے گاڑی سے چکر کاٹا۔ اس کے بعد مین اسے اندر سے دیکھنے نیچے اترا۔ اس کی وضاحت کی کہ چھوٹی عمر میں تفریحی پارکوں میں جانا میرا شوق تھا۔ اسی شوق کو لے کرمیں اس پارک میں داخل ہوا۔ میں اس کے اندر گیا۔ اس کی ویڈیو اور تصاویر بنائیں۔

اس نے بتایا کہ سورج اور دن کی روشنی کی چمک کے باوجود یہ جگہ ایک خوفناک مام دکھتی ہے۔چلتے ہوئے جھولے میں لوہے کے راڈ ایک دوسرے سے ٹکرا کرخوف کی کفیت پیدا کرتے ہیں۔ قریب ہی سول ڈینفس کا پانی ک ایک ٹینک بھی ہے جس سے پانی ٹپکتا ہے۔ میں وہاں پر تنہا تھا۔

الزامل نے بتایا کہ وہاں پر کئی پرانی عمارتیں بھی ہیں جو ویران ہیں۔ میں ان میں سے کسی میں اندر نہیں جا سکا۔ البتہ اس پارک کی بنائی گئی ویڈیو اور تصاویر کو سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی ملی۔

اس نے بتایا کہ اکثر راہ گیر وہاں سے گذرتے ہوئے اس پارک میں جانےکی خواہش کرتے ہیں مگربہت کم وہاں جانے کی ہمت کرتے ہیں۔ زیادہ تر پارک کے وزٹ کو’پھر کبھی‘ پر ڈال دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں