روس اور یوکرین

روس کی یوکرین میں برطانوی فورسز کی موجودگی سے متعلق میڈیا رپورٹ کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے اعلیٰ ریاستی تحقیقاتی ادارے نے کہا ہے کہ وہ روسی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کا جائزہ لے رہا ہے۔اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ برطانیہ کی ایس اے ایس خصوصی فورسز کے تخریب کاری ماہرین کو یوکرین کے مغربی علاقے میں تعینات کیا گیا ہے۔

اسپیشل ایئرسروس (ایس اے ایس) برطانیہ کی ایک ایلیٹ فوجی فورس ہے جو خصوصی کارروائیوں، نگرانی اور انسداد دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے تربیت یافتہ ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی ریا نووستی نے ہفتے کے روز سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایس اے ایس کے قریباً 20 ارکان کو یوکرین کے مغربی علاقے لفیف میں بھیجا گیا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ برطانوی خصوصی فوجیوں سے متعلق اس رپورٹ کا جائزہ لے گی۔اس میں کہا گیا تھاکہ برطانوی خصوصی فورسز کو یوکرین کی سرزمین پر تخریبی سرگرمیوں میں خصوصی سروسز کی مدد کے لیے بھیجا گیا تھا۔

تاہم برطانوی وزارت دفاع نے روس کی تحقیقات پرفوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔البتہ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس نے رواں سال کے اوائل میں یوکرین میں فوجی تربیت کاروں کو بھیجا تھا تاکہ مقامی فورسزکو ٹینک شکن ہتھیاروں کے استعمال کی ہدایت ورہ نمائی کی جاسکے۔

لیکن برطانوی حکومت نے روس کے حملے سے ایک ہفتہ قبل 17 فروری کوکہا تھا کہ اس نے اپنے سفیرکی حفاظت کے لیے درکار فوجیوں کے علاوہ تمام فوجیوں کو ملک سے نکال لیا ہے۔

یہ واضح نہیں تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی نے یوکرین میں ایس اے ایس کی کسی کارروائی میں شرکت کے جواب میں کیا اقدامات کیے ہیں؟لیکن کسی ایک نیٹو ملک کی افواج کی یوکرین میں ممکنہ موجودگی کی تحقیقات کی حقیقت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ روس مغرب کوقبل ازیں کئی مرتبہ خبردارکرچکا ہے کہ وہ یوکرین میں اس کے’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘کی راہ میں حائل نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں