قطیف میں خاندان کو زندہ جلائے جانے کی تفصیلات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی پولیس نے قطیف گورنری میں پٹرول چھڑک کر گھر کو آگ لگانے اور خاندان کو زندہ جلانے کی مجرمانہ واردات کے مرتکب مجرم کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس گھناوٗنی واردات کے نتیجے میں اس کے خاندان کے 4 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ پبلک پراسیکیوشن میں اس کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے جمعرات کو قطیف گورنری کے شہر صفوا میں ایک شہری کے گھر میں افطاری سے عین قبل آگ لگنے کے بارے میں خبر شائع کی تھی جس سے ایک پورے خاندان کی موت ہو گئی تھی۔ جاں بحق ہونے والوں میں ماں، باپ، اور ایک بیٹی اور ایک بیٹا شامل ہیں۔

پولیس کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ ایک حادثہ نہیں بلکہ بدقسمت خاندان ہی کے ایک فرد کا اقدام تھا جس نے اپنے ہی خاندان جس میں ماں، باپ، ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی شامل ہیں کو ایک کمرے میں بند کیا اور انہیں آگ لگا دی۔

جمعرات کے روز پیش آنے والے اس المناک واقعے کے مشتبہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وہ خود بھی آگ لگنے سے معمولی طورپر متاثر ہے تاہم پولیس کی موجودگی میں اس کا علاج کیا جا رہا ہے۔

ملزم کی عمر تیس سال کے درمیان ہے اور وہ نفسیاتی عوارض کا شکار بتایا جاتا ہے۔ اس نے خاندان کے تمام افراد کو ایک کمرے میں بند کیا اور ان کی مدد کے لیے فریاد تک نہیں سنی بلکہ ان کے باہر نکلنے کے تمام راستے بند کردیے۔ آگ میں جھلس جانے کے باعث تمام افراد کی لاشیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفیتش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس نے یہ اقدام سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا ہے۔ اس نے منصوبے کے تحت خاندان کو ایک کمرے میں بند کیا اور اس کے بعد تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ آگ لگنے کےبعد کمرے میں بند اس کی ماں باپ نے اپنی جانیں بچانے کے لیے اس سے التجائیں کیں مگر اس نے کسی کی فریاد تک نہیں سنی اور انہیں جلتا چھوڑ دیا۔ملزم نشے کا بھی عادی بتایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں