حوثی ملیشیا صنعاء کے ہوائی اڈے سے پہلی پرواز کی روانگی میں آڑے آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے آج اتوار کے روز پہلی تجارتی پرواز کی روانگی مقرر تھی تاہم حوثی ملیشیا نے اس میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔ یمنی حکومت نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے اردن کے دارالحکومت عمّان کے لیے مقررہ اس پرواز کی اڑان میں رکاوٹ کی تمام ذمے داری ایران نواز حوثی ملیشیا پر عائد کی ہے۔

الاریانی نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں بتایا کہ حوثیوں نے اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی جس کے متن میں آئینی حکومت کی جانب سے جاری پاسپورٹس کی منظوری کی شق شامل ہے۔ الاریانی کے مطابق حوثی ملیشیا مذکورہ پرواز میں ایسے 60 افراد کو سوار کرانے کی کوشش کر رہی ہے جن کے پاس ملیشیا کی جانب سے جاری کردہ غیر منظور شدہ پاسپورٹس ہیں۔

الاریانی نے عالمی برادری ، اقوام متحدہ اور یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالیں تا کہ وہ اس انسانی معاملے کے ساتھ کھلواڑ بند کرے۔ نیز اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ملیشیا کے مفاد کے واسطے شہریوں کو یرغمال بنانے اور ان کے استحصال کا سلسلہ روک دے۔

اس سے قبل یمن کی فضائی کمپنی نے صنعاء کے ہوائی اڈے سے پہلی پرواز کی اڑان کا وقت مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس سلسلے میں تمام تکنیکی انتظامات مکمل ہیں تاہم وہ تاخیر پر مسافروں سے معذرت خواہ ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے رواں ماہ کے اوائل میں یمن میں دو ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی میں عسکری کارروائیوں کا روکا جانا ، الحدیدہ کی بندرگاہ میں تیل کی مصنوعات والے بحری جہازوں کو داخلے کی اجازت دینا ، صنعاء ہوائی اڈے کو ہفتہ وار دو پروازوں کے ذریعے دوبارہ سے فعال بنانا اور تعز شہر اور دیگر صوبوں میں گزر گاہیں اور راستوں کو کھولا جانا شامل ہے۔

جنگ بندی کے بعد سے حوثی ملیشیا ابھی تک یمنی صوبوں کے درمیان انسانی گزر گاہیں اور راستے کھولنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں