پابندی ہمیں خواتین کے حقوق کے دفاع سے نہیں روکے گی: ترک تنظیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

انقرہ اور استنبول سمیت ترکی کے کئی شہروں میں گذشتہ ہفتے کے روز سینکڑوں مظاہروں کے باوجود عدالتی حکام کی جانب سے ملک میں خواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والی سب سے بڑی انجمن’سٹاپ کلنگ وومن‘ کوتحلیل کرنے کی دھمکیاں مسترد کرنےکے باوجود تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی کا خدشہ موجود ہے۔ یہ تنظیم سنہ 2010 سے خواتین کے حقوق کے دفاع اسےاپنی سرگرمیوں پر فوری پابندی کا سامنا ہے جب کہ حکام کی جانب سے اس پر "غیر اخلاقی" اور "خلاف قانون" سرگرمیوں کے ارتکاب کا الزام لگایا گیا تھا۔

"اسٹاپ فیمیسائیڈ" پلیٹ فارم کی ایک ترجمان جو تُرکی میں گھریلو تشدد سے نمٹنے اور خواتین کے قتل کے کیسز کو دستاویز کرنے کے لیے تقریباً 12 سال سے کام کر رہی ہے نے مظاہروں کے علاوہ ان ممالک میں خواتین کی حیثیت میں بہتری لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ ملک میں خواتین کا قتل عام کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں خواتین کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ "ہمارے پلیٹ فارم کو تحلیل کرنا اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی لگانا بہت ممکن ہے۔انہوں نے حکام کی طرف سے اس پلیٹ فارم کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی سختی سے تردید کی۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے پلیٹ فارم کو قطعی طور پر نہیں معلوم کہ اسے تحلیل کرنے اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کب لیا جائے گا۔ خواتین کی انجمن کی ایک ترجمان میلک اونڈر نے کہا حکومت بلا وجہ ان کی تنظیم پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کیس کو بند کر دینا چاہیے، لیکن اس کے باوجود عدالت آئندہ جون میں اس کیس کی ابتدائی سماعت کرے گی اور ہمارے پلیٹ فارم کو بند کرنے اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی کے مطالبے پر حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمارے پلیٹ فارم کو تحلیل کرنے سے ہمیں اپنی سرگرمیوں کو انجام دینے سے نہیں روکا جائے گا جس کے ذریعے ہم خواتین کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔ ہم خواتین کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، خاص طور پر چونکہ ترکی میں ہر روز خواتین کو قتل کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں