بیرونی ’حملوں‘کو برداشت نہیں کریں گے:افغان وزیردفاع

حالیہ حملے کوتوقومی مفاد کی وجہ سے برداشت کیا، مگراگلی بارایسا کوئی حملہ برداشت نہیں کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے قائم مقام وزیردفاع ملّا محمد یعقوب نے کہا ہے کہ طالبان انتظامیہ فضائی حملوں کے خلاف احتجاج کرتی ہے اور وہ آیندہ اپنے علاقوں پربیرونی ’’حملوں‘‘کو برداشت نہیں کرے گی۔طالبان حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ہمسایہ ملک پاکستان نے کیے تھے۔

طالبان انتظامیہ کی جانب سے پاکستان پر فضائی حملوں کا الزام عاید کرنے کے بعدافغان وزیردفاع نے یہ بیان جاری کیا ہے۔طالبان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع مشرقی صوبوں کنڑاور خوست میں فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان نے افغانستان کی سرحدوں کے اندرفضائی حملوں میں کسی قسم کے ملوّث ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔البتہ اس نے کہا ہے کہ دونوں برادر ممالک ہیں۔

قائم مقام افغان وزیردفاع ملّا محمد یعقوب نے کابل میں اپنے والد طالبان تحریک کے بانی ملّا محمدعمرمرحوم کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ ’’ہمیں دنیا اور ہمارے ہمسایوں دونوں کی جانب سے مسائل اور چیلنجوں کاسامنا ہے، اس کی واضح مثال کنڑ میں ہمارے علاقے میں ان کی جانب سے حملہ ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم ایسے حملوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم نے اس حملے کوتو برداشت کیا ہے اور ایسا ہم نے قومی مفادات کی وجہ سے کیا ہے لیکن اگلی بار ہم اس طرح کاکوئی حملہ برداشت نہیں کرسکتے‘‘۔

پاکستان کے دفترخارجہ کے ترجمان نے ملّایعقوب کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امن کے حصول کے لیے افغانستان کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کی امید ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان برادرممالک ہیں۔ دونوں ممالک کی حکومتیں اورعوام دہشت گردی کو ایک سنگین خطرہ سمجھتے ہیں اورطویل عرصے سے اس ناسورکا شکار ہیں۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہمارے دونوں ممالک سرحد پاردہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور اپنی اپنی سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں تعاون کے لیے متعلقہ ادارہ جاتی سطح پربامقصد طریقے سے کام کریں۔

طالبان انتظامیہ کی وزارت خارجہ نے گذشتہ ہفتے کابل میں متعیّن پاکستان کے سفیرکو ان حملوں کے خلاف احتجاج کے لیے طلب کیا تھا۔ مقامی حکام نے بتایا کہ پاکستان کے فوجی ہیلی کاپٹروں کے حملوں میں 36 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے بچّوں کےادارے کے سربراہ نے بتایا کہ 16اپریل کو خوست اور کنڑمیں فضائی حملوں میں 20 بچّے بھی مارے گئے تھے۔واضح رہے کہ طالبان داعش اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت مختلف جنگجوگروپوں کے افغان سرزمین سے پاکستانی علاقوں پرمسلسل حملوں کو روکنے ناکام رہے ہیں۔اس کی وجہ سے پاکستان کی فوج نے حالیہ مہینوں میں افغان سرحد پر روپوش جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں تیزکردی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں