تہران کی سرگرمیوں پر بحث کے لیے امریکا اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کا نیا دور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی اور اسرائیلی ذمے داران نے تصدیق کی ہے کہ رواں ہفتے دونوں ملکوں کے بیچ تزویراتی بات چیت کا ایک نیا دور منعقد ہو گا۔ بات چیت میں ایرانی جوہری پروگرام اور خطے میں ایران کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے پر توجہ مرکوز ہو گی۔ اس سے قبل اتوار کے روز امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا۔

ذمے داران کے مطابق اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر ایال ہولاتا آئندہ دنوں میں واشنگٹن پہنچیں گے۔ وہ وائٹ ہاؤس میں اپنے امریکی ہم منصب جیک سولیون کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔ یہ بات انگریزی ویب سائٹ AXIOS نے بتائی۔

اس سے قبل گذشتہ روز وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے ساتھ خطے میں ایران اور اس کے ایجنٹوں سے لاحق خطرے پر تبادلہ خیال کیا۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان نے بتایا کہ بائیڈن اور بینیٹ نے اتوار کو فون پر بات چیت کی۔

بینیٹ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو واشنگٹن کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے مطالبے پر اپنے موقف کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر بائیڈن جنہیں ہم اسرائیل کا حقیقی دوست سمجھتے ہیں اور جو اسرائیل کی سلامتی کے خواہاں ہیں، ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

بیان میں یہ عندیہ دیا گیا کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے آئندہ چند ماہ کے دوران اسرائیل کے دورے کی دعوت کو قبول کی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں OPAL کے نام سے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔ اس کے سربراہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیران تھے۔ یہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے حکمت عملی کو زیر بحث لانے کا مرکزی فورم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں