سعودی عرب کا بین الاقوامی کاروبار میں 50 صد اضافے کے لیے نیا سرمایہ کاری قانون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خود مختارسعودی عرب نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کاروبار کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ملک کے قانونی نظام کوبہتر بنانے کی غرض سے وزارت سرمایہ کاری کے حالیہ اقدام کے نتیجے میں بین الاقوامی کاروباری اداروں میں 50 فی صد سے زائد کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

قانون میں کہا گیا ہے کہ غیرملکی اور مقامی سرمایہ کاری دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا کیونکہ مملکت تیل کی برآمدات پرانحصار کم کرنے کے لیے اپنی معیشت کو متنوع بنانا چاہتی ہے۔ حال ہی میں مارچ میں گلوبل انٹرپرینیورشپ کانگریس 2022 میں ساڑھے 93 کروڑ ڈالر سے زائد کے فنڈز کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ سعودی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں کی رسائی کو آسان بنایا جاسکے۔

سرمایہ کاری کے نئے قانون کے اعلان سے قبل عالمی بینک نے پیش گوئی کی تھی کہ 2022 کے آخر تک مملکت کی جی ڈی پی 820 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جو 2020 کی 700 ارب ڈالر کی پیشین گوئی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری کے اس نئے قانون کے تحت مزید غیرملکی سرمایہ کار سعودی عرب میں آئیں گے اور غیرجانبدارانہ سلوک سے لطف اندوزہوں گے جس کے نتیجے میں ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور اس طرح وہ عالمی بینک کے اندازوں میں سرفہرست رہ سکتا ہے۔

مملکت میں داخل ہونے والے نئے کاروباروں میں دلچسپی دبئی ایکسپو2020 میں ملک کی شرکت سے متاثر ہوئی ہے۔اس نمائش نے سعودی 2030 کے وژن اور اہم اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کو اجاگر اور مستحکم کیا ہے۔

خود مختارسعودی عرب کے منیجنگ ڈائریکٹر پال آرنلڈ کے حوالے سے بتایا گیا کہ سعودی پویلین میں 46 لاکھ سے زیادہ زائرین کی آمدہوئی تھی۔اس نے سعودی عرب کی کاروباری صلاحیت کے بارے میں ایک نئی آگہی پیدا کی ہے اور سرمایہ کاری کا یہ نیا قانون کے ایس اے کی کاروبار کرنے کی عالمی سطح پر سب سے زیادہ دلکش جگہوں میں سے ایک کے طور پر پوزیشن کو مزید تقویت دے گا۔

انھوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی سرمایہ کاروں کے لیے مسابقتی غیرجانبداری کے اصول کو قانونی طور پر نافذ کرکے تجارتی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اگرآپ اپنی کمپنی کی موجودگی کو بڑھانا چاہتے ہیں یا پہلی بار اپنا برانڈ لانچ کرنا چاہتے ہوں، اورآپ کے پاس ٹھیکے ہیں تو سعودی مارکیٹ میں داخل ہونے اور سرمایہ کاری کرنے کا اس سے بہتر وقت کبھی نہیں رہا ہے۔

نیا قانون غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنے معاشی منصوبوں کا انتظام کرنے، فروخت کرنے اور ٹھکانے لگانے اور کسی بھی ضروری جائیداد کے مالک ہونے کی آزادی دے گا جس سے ہموار کاروباری سرگرمیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں دونوں کو تمام اہل سرکاری حکام کی مکمل حمایت دے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دونوں مخصوص معاشی سرگرمیوں یا زونز کے لیے درکار اجازت ناموں ، رجسٹریشن، لائسنس اور منظوری کے لیے ایک ہی شعبہ جاتی منظوری کے تقاضوں سے مشروط ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں