تُونس کی حزبِ اختلاف کا صدرقیس سعیّد کے خلاف نئے اتحاد کی تشکیل کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تُونس کی حزب اختلاف کی ایک تجربہ کار شخصیت نے صدر قیس سعیّد کے گذشتہ سال اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ملک کودرپیش سنگین بحران سے نکالنے کے لیے ایک نیا اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیاہے۔

سابق مطلق العنان صدرزین العابدین بن علی کی حکومت کی مخالفت میں پیش پیش بائیں بازو کے ممتاز سیاست دان 78 سالہ احمد نجیب شیبی نے کہا کہ نئے اتحاد قومی محاذ آزادی (نیشنل سالویشن فرنٹ) کا مقصد سیاسی قوتوں کو متحد کرنا، آئینی اور جمہوری عمل کا دوبارہ آغاز کرنا اور ملک میں آزادیوں اور حقوق کی ضمانت دینا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز دارالحکومت تُونس میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’ہم ملک کی قانونی حیثیت اور جمہوریت کی طرف واپسی چاہتے ہیں‘‘۔

قانون کے سابق پروفیسر صدر قیس سعیّد نے گذشتہ سال 25 جولائی کو حکومت کو برطرف کردیا تھا، پارلیمنٹ معطل کر دی تھی اور تمام اختیارات پر قبضہ کرلیا تھا۔بعد میں انھوں نے خود کو ایک حکم نامے کے ذریعے حکمرانی اور قانون سازی کے اختیارات بھی سونپ دیے تھے اور عدلیہ پر قبضہ کرلیا تھا۔

انھوں نے گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا تھا اور شمالی افریقی ملک میں 2011 کے انقلاب کے بعد نافذ کردہ سیاسی نظام کو ایک اور دھچکا پہنچایا تھا۔نجیب شیبی نے صدر قیس سعید کے ان اقدامات کی مخالفت کی ہےاورانھیں ’’بغاوت‘‘قرار دیا ہے۔

ان کے قائم کردہ نئے اتحاد میں پانچ سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ان میں اسلام پسند النہضہ کے ساتھ سول سوسائٹی کے پانچ گروپ بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ آزاد سیاسی شخصیات شامل ہیں۔

شیبی نے کہا کہ ان کے محاذ کی ترجیح ایک ’’گلے سڑے‘‘سیاسی نظام کی وجہ سے تباہ ہونے والی معیشت کو بچانا ہے جو سرمایہ کاروں کو روک دیتی ہے۔انھوں نے مزیدکہا کہ اس کا مقصد ’’ملک کو بچانے‘‘کے لیے اصلاحات پرقومی مکالمہ شروع کرنے سے قبل دیگر سیاسی گروہوں اوربااثرشخصیات کو بھی اپنی صف میں شامل کرنا ہے۔

شیبی نے نئے انتخابات سے قبل عبوری دور کے لیے ایک ’’نجات حکومت‘‘ کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔گذشتہ ہفتے فیس سعید نے خود کو انتخابی کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اختیارسونپا تھا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جولائی میں آئینی اصلاحات اور دسمبر میں ہونے والے قانون سازاسمبلی کے انتخابات سے قبل اپنا ایک آلہ کار انتخابی ادارہ تشکیل دینا ہے۔

گذشتہ ماہ صدر سعید نے ججوں کی ایک ’’عارضی‘‘ کونسل کا بھی افتتاح کیا تھا تاکہ وہ ایک آزاد واچ ڈاگ کی جگہ لے سکے جسے انھوں نے عدلیہ پر وسیع اختیارات پر قبضہ کرتے وقت ختم کر دیا تھا۔

گذشتہ سال صدر قیس سعید کے اقتدار پر قبضے کا تُونس میں بہت سے لوگوں نے ابتدائی طور پرخیرمقدم کیا تھا۔وہ انقلاب کے بعد اکثر تعطل کا شکار سیاسی نظام سے تنگ آچکے تھے اور ملک میں ایک حقیقی تبدیلی چاہتے تھے۔لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر نے ملک کو ایک خطرناک راستے پر واپس آمریت کی طرف دھکیل دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں